
ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حالیہ دہائیوں میں پیدا ہونے والے افراد میں حیاتیاتی عمر (Biological Age) کے تیزی سے بڑھنے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جو کم عمری میں کینسر کے خطرات میں اضافے سے منسلک ہو سکتا ہے۔
محققین نے 1965 سے 1969 اور 1990 سے 1999 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ 1990 کی دہائی میں پیدا ہونے والے افراد کی حیاتیاتی عمر نسبتاً زیادہ تیزی سے بڑھ رہی تھی۔ یہ فرق مردوں میں خواتین کے مقابلے میں زیادہ نمایاں پایا گیا۔
تحقیق کے مطابق حیاتیاتی عمر اور اصل جسمانی عمر کے درمیان جتنا زیادہ فرق ہو، مختلف اقسام کے کینسر، خصوصاً پھیپھڑوں، نظامِ ہاضمہ اور بڑی آنت کے کینسر کا خطرہ اتنا ہی بڑھ سکتا ہے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ 1990 سے 2019 کے دوران 50 سال سے کم عمر افراد میں کینسر کے کیسز میں تقریباً 24 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ خاص طور پر بڑی آنت کے کینسر کے کیسز نوجوانوں میں زیادہ تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھے گئے۔
تحقیق میں یہ بھی اشارہ دیا گیا کہ 1990 کی دہائی میں پیدا ہونے والے افراد کو بڑی آنت کے کینسر کا خطرہ پہلے کی نسلوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس رجحان کی متعدد ممکنہ وجوہات ہیں، جن میں کم عمری میں بلوغت کا آغاز، موٹاپے میں اضافہ، ذیابیطس اور فالج جیسی بیماریوں کا نسبتاً جلد ظاہر ہونا شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل حیاتیاتی عمر میں تیزی سے اضافے اور کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرات سے تعلق رکھتے ہیں۔
محققین نے مزید وضاحت کی کہ جسم کے مختلف اعضا اور نظاموں کی عمر بڑھنے کی رفتار ایک جیسی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات کسی مخصوص عضو یا جسمانی نظام کی عمر مجموعی جسمانی عمر سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
تحقیق کے دوران یہ بھی دیکھا گیا کہ اگر مدافعتی نظام کی عمر فرد کی اصل عمر سے زیادہ ہو جائے تو کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح چربی کے ٹشوز کی عمر میں اضافے کو بڑی آنت کے کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے جوڑا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نوجوان افراد میں کینسر کے بڑھتے ہوئے کیسز کی مکمل اور حتمی وجہ ابھی واضح نہیں، تاہم اس نوعیت کی تحقیقات مختلف عوامل کو سمجھنے میں مدد فراہم کر رہی ہیں۔ مستقبل میں مزید تحقیق کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ ماحولیاتی عوامل کس حد تک کینسر کے خطرات میں اضافہ کرتے ہیں اور اس بیماری کی مؤثر روک تھام کیسے ممکن بنائی جا سکتی ہے۔








