
اسلام آباد: پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے، جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی مفاہمتی دستاویز یا مذاکرات کا حصہ نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر ملک کو اپنی دفاعی ضروریات کے مطابق صلاحیتیں برقرار رکھنے کا حق حاصل ہے اور اس معاملے میں یکساں اصول اپنائے جانے چاہییں۔
انہوں نے پاکستان اور ایران کے تعلقات کو برادرانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے ہمیشہ مشکل اوقات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ وزیراعظم نے حالیہ علاقائی کشیدگی اور جنگ کے دوران ایرانی جانی نقصانات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت بھی کی۔
شہباز شریف نے خطے میں جنگ بندی اور سفارتی رابطوں کے آغاز کو مثبت پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل سے خطے میں امن اور استحکام کو فروغ مل سکتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ ہفتے تہران کا دورہ کریں گے جہاں ایرانی قیادت سے مزید ملاقاتیں متوقع ہیں۔
اپنے خطاب میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان اور ایران کے تعلقات کو تاریخی اور قریبی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک مشترکہ مفادات اور مشترکہ مستقبل کے حامل ہیں۔ انہوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا اور مختلف دوست ممالک کی معاونت پر بھی شکریہ ادا کیا۔
صدر پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو کسی مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی اور دفاعی امور ایران کا خودمختار حق ہیں۔
ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن، باہمی احترام، تعمیری مذاکرات اور علاقائی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی مسائل کا حل بیرونی دباؤ کے بجائے متعلقہ ممالک کے درمیان براہِ راست رابطوں اور اعتماد سازی میں پوشیدہ ہے۔
دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور سفارتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔









