
وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کے دورے کے بعد دوحہ پہنچ گئے ہیں جہاں وہ امیرِ قطر سے اہم ملاقات کریں گے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے متحرک سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔
اس سے قبل جدہ میں محمد بن سلمان اور شہباز شریف کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں خطے کی صورتحال اور ایران-امریکا تعلقات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔ سعودی ولی عہد نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی معاشی بہتری میں سعودی تعاون کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کو اہم قرار دیا۔
دوسری جانب، تہران میں عاصم منیر کی قیادت میں پاکستانی وفد نے ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ اس وفد میں محسن نقوی بھی شامل تھے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے وفد کا استقبال کیا اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔
ایرانی حکام کے مطابق پاکستان اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور ممکنہ مذاکرات کے تسلسل میں سہولت فراہم کر رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی اس عمل میں پاکستان کے کردار کو کلیدی قرار دیا۔
تہران میں ہونے والی ملاقاتوں میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ نئے مذاکراتی مرحلے پر بھی بات چیت ہوئی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان کی یہ سفارتی کاوشیں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور پائیدار امن کے قیام میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہیں۔









