پاکستان نے ایران کے راستے وسطی ایشیا تک نئی تجارتی راہداری فعال کر دی

0
15
پاکستان نے ایران کے راستے وسطی ایشیا تک نئی تجارتی راہداری فعال کر دی

پاکستان نے علاقائی تجارت میں وسعت اور روایتی ٹرانزٹ راستوں پر انحصار کم کرنے کے لیے پاک ایران سرحد پر واقع گبد بارڈر ٹرمینل کو بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ (TIR) نظام کے تحت فعال کر دیا ہے۔
اس اقدام کے بعد پاکستان اب افغانستان کے بجائے ایران کے ذریعے وسطی ایشیائی ممالک تک زیادہ محفوظ اور مختصر تجارتی راستہ استعمال کر سکے گا۔ اس نئے روٹ کے تحت کراچی سے ازبکستان کے شہر تاشقند کے لیے گوشت سے بھرے کنٹینرز کی پہلی کھیپ روانہ کر دی گئی ہے، جو کسٹمز کارروائی مکمل ہونے کے بعد ایران کے راستے اپنی منزل کی جانب بڑھ رہی ہے۔
یہ منصوبہ نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (NLC) کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے، جو پہلے بھی چین، ایران اور وسطی ایشیا کے لیے متعدد ٹرانزٹ راستے کامیابی سے چلا چکی ہے۔
افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی اور وقفے وقفے سے بندشوں کے باعث گزشتہ عرصے میں پاکستانی برآمد کنندگان کو شدید مشکلات کا سامنا رہا، جس کے بعد حکومت نے متبادل تجارتی راستوں کی تلاش تیز کر دی تھی۔
پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد پہلے سے ہی غیر رسمی تجارت کا مرکز رہی ہے، تاہم اب اسے باقاعدہ اور منظم تجارتی نظام میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حکومت نے برآمدات کو سہل بنانے کے لیے بعض بینکاری قواعد میں بھی وقتی نرمی کی ہے، جس کے تحت ایران اور وسطی ایشیا کو خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی برآمد پر ادائیگیوں کی دستاویزی شرط جون 2026 تک معطل کر دی گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ازبکستان پاکستان کے لیے گوشت کی برآمدات کی ایک بڑی منڈی بن چکا ہے، اور مالی سال 2025 میں پاکستان کی گوشت برآمدات میں اس کا حصہ تقریباً 39 فیصد رہا، جو متحدہ عرب امارات سے بھی زیادہ ہے۔
گبد بارڈر ٹرمینل، جو گوادر سے تقریباً 70 کلومیٹر اور ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے 120 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، مستقبل میں خطے کی تجارت کا اہم مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ایران پر عائد پابندیاں نرم یا ختم ہوتی ہیں تو یہ راستہ پاکستان کے لیے برآمدات اور علاقائی تجارت کے لیے ایک بڑی معاشی پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
حکومت کی موجودہ حکمتِ عملی بارٹر ٹریڈ اور متبادل تجارتی راستوں کے فروغ پر مرکوز ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ اور زرمبادلہ کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔

Leave a reply