چین نے توانائی کے بحران سے بچاؤ کا مضبوط نظام کیسے بنایا؟

0
65
چین نے توانائی کے بحران سے بچاؤ کا مضبوط نظام کیسے بنایا؟

دنیا میں تیل کا سب سے بڑا خریدار ہونے کے باوجود چین نے خود کو ایک ایسی مضبوط پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ عالمی توانائی کے بحرانوں، خصوصاً آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش، کے اثرات کا نسبتاً بہتر مقابلہ کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس کی سب سے بڑی وجہ چین کی طویل المدتی توانائی پالیسی ہے، جس کا مقصد غیر ملکی تیل پر انحصار کم کرنا اور مقامی وسائل کو فروغ دینا ہے۔
چین میں الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے اور اس وقت ملک میں دنیا کی سب سے بڑی ای وی مارکیٹ موجود ہے۔ اس رجحان کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی طلب میں واضح کمی آ رہی ہے، جس سے درآمدی تیل پر دباؤ کم ہو رہا ہے۔
بجلی کے شعبے میں بھی چین کافی حد تک خود کفیل ہے۔ ملک اپنی زیادہ تر بجلی مقامی کوئلے، شمسی توانائی اور ہوا سے پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر بیرونی سپلائی متاثر بھی ہو جائے تو بجلی کی فراہمی برقرار رہ سکتی ہے۔
چین نے تیل کی درآمدات کے لیے بھی متنوع حکمت عملی اپنائی ہے۔ وہ اپنی ضروریات مختلف ممالک سے پوری کرتا ہے، جس سے کسی ایک خطے یا راستے پر انحصار کم ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ چین نے خام تیل کے بڑے ذخائر بھی قائم کر رکھے ہیں، جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں کئی ماہ تک ملکی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مزید برآں، چین نے زمینی پائپ لائنوں کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا ہے جو روس، وسطی ایشیا اور میانمار سے توانائی کی فراہمی ممکن بناتا ہے۔ اس سے سمندری راستوں پر انحصار مزید کم ہو جاتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ، مقامی توانائی کے استعمال، ذخیرہ اندوزی اور متبادل راستوں کی بدولت چین نے اپنی توانائی کی سلامتی کو کافی حد تک مضبوط بنا لیا

Leave a reply