اصفہان میں دھماکے، امریکی صدر نے ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی

مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ دوبارہ بڑھ گیا ہے، جہاں امریکی اور اسرائیلی افواج نے ایران کے مختلف شہروں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی صدر نے اس کارروائی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی شیئر کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق دارالحکومت تہران، کرج اور اصفہان کو نشانہ بنایا گیا۔ اصفہان میں بھاری بم استعمال کیے گئے، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکے ہوئے اور کئی عمارتوں میں آگ لگ گئی۔ امریکی حکام کے مطابق اس حملے کا ہدف اسلحے کے ایک اہم ڈپو کو نقصان پہنچانا تھا۔
صدر نے حملے کی ویڈیو اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں شیئر کی، جس میں دھماکوں کے بعد اٹھتے ہوئے آگ کے شعلے دکھائی دیتے ہیں۔ اصفہان، جو تقریباً 23 لاکھ آبادی والا شہر ہے، میں بدر ملٹری ایئر بیس بھی موجود ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے بتایا کہ امریکا ایران کو نیوکلئیر ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے مذاکرات اور فوجی اقدامات کر رہا ہے۔ ایران کو مذاکرات کے لیے دس دن کا آخری موقع دیا گیا ہے۔ اگر ایران یہ موقع ضائع کرتا ہے تو امریکا مزید سخت اقدامات کر سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکا کے حملے صرف عسکری اور نیوکلئیر ہدف پر مرکوز ہیں تاکہ خطے میں خطرات محدود کیے جا سکیں۔ اس دوران عرب ممالک کی مدد کے امکان پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ فوجی آپریشن کی کامیابی یقینی بنائی جا سکے۔









