
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پیر کے روز برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں تین فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 116 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں دیکھنے میں آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ میں شدت آئی ہے اور خطے میں ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ایرانی قیادت کی جانب سے سخت بیانات سامنے آئے ہیں، جن میں ممکنہ جوابی کارروائیوں کا عندیہ دیا گیا ہے۔
حالیہ دنوں میں خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کی سرگرمیوں اور اسرائیلی کارروائیوں میں اضافے نے عدم استحکام کو بڑھایا ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔
خصوصاً آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے خدشات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ یہ اہم بحری راستہ عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی بندش یا خلل عالمی سپلائی کو متاثر کر سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی اور توانائی کی ترسیل معمول پر نہ آئی تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتوں اور معیشت پر پڑیں گے۔
ادھر عالمی سطح پر توانائی کے ممکنہ بحران کے پیش نظر مختلف ممالک متبادل حکمت عملیوں اور توانائی کے استعمال میں بچت جیسے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔









