بغداد میں زور دار دھماکے، فوجی تنصیب راکٹ حملے کا نشانہ

عراق کے دارالحکومت بغداد میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جن کے بارے میں ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ یہ ڈرون حملوں کے بجائے راکٹ فائر کیے جانے کے نتیجے میں ہوئیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق راکٹ بغداد کے مغربی علاقے میں واقع ایک فوجی تنصیب کو نشانہ بنا کر داغے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ تنصیب ماضی میں امریکی افواج کے زیرِ استعمال رہی ہے، تاہم حالیہ عرصے میں اسے خالی کر دیا گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق دفاعی نظام راکٹوں کو مکمل طور پر روکنے میں کامیاب نہ ہو سکا، جس کے باعث ایک عراقی سیکیورٹی ادارے سے منسلک ٹرانسپورٹ طیارے کو نقصان پہنچا اور اس میں آگ بھڑک اٹھی۔
سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے حملے کو علامتی بھی قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ ماضی میں یہی علاقہ انتہائی محفوظ تصور کیا جاتا تھا۔ موجودہ واقعہ سیکیورٹی صورتحال میں ممکنہ تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ واقعے کے بعد شہر کی فضاؤں میں جنگی طیاروں کی پروازیں دیکھی گئیں، جس سے کشیدگی میں اضافے کا تاثر ملتا ہے۔
دوسری جانب شمالی عراق کے شہر اربیل میں بھی ایک مبینہ ڈرون حملے کی کوشش کی گئی، جسے مقامی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔ رپورٹس کے مطابق حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
حکام کی جانب سے واقعات کی مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ سیکیورٹی الرٹ بھی بڑھا دیا گیا ہے۔








