وزن کم کرنے کا نیا راز: صرف کیلوریز نہیں، وقت بھی اہم

0
42
وزن کم کرنے کا نیا راز: صرف کیلوریز نہیں، وقت بھی اہم

جدید طبی تحقیق نے وزن کم کرنے کے روایتی نظریات کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ تازہ مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ صرف کیلوریز گننا ہی کافی نہیں، بلکہ کھانے کے اوقات اور اسے کھانے کا طریقہ بھی انسانی صحت اور وزن پر گہرے اثرات ڈالتے ہیں۔
برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق خوراک کی مقدار کم کرنے کے بجائے اگر کھانے کے اوقات میں تبدیلی کی جائے تو یہ جسم کے میٹابولزم اور چربی گھلانے کے عمل پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کا نظام نہایت پیچیدہ ہے اور ہر غذا مختلف افراد پر مختلف انداز میں اثر انداز ہوتی ہے۔
مزید تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ہر شخص کا نظامِ انہضام مختلف ہوتا ہے، اسی لیے ایک جیسی خوراک دو افراد کے جسم پر مختلف نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ اس تناظر میں ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صرف یہ اہم نہیں کہ ہم کیا کھاتے ہیں، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم کب کھاتے ہیں۔
انسانی جسم میں ایک قدرتی حیاتیاتی گھڑی موجود ہوتی ہے جسے سرکیڈین ردھم کہا جاتا ہے، جو ہاضمے اور توانائی کے استعمال کو کنٹرول کرتی ہے۔ جدید غذائی سائنس، جسے کرونو نیوٹریشن کہا جاتا ہے، اسی اصول پر زور دیتی ہے کہ کھانے کے اوقات میں تبدیلی سے وزن کو بہتر طور پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق وہ افراد جو دن کے آغاز میں زیادہ خوراک لیتے ہیں، ان کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے وزن کم کرتے ہیں جو رات کو بھاری کھانا کھاتے ہیں۔ اسی طرح کھانے کے دورانیے کو محدود کرنا بھی ایک مؤثر حکمت عملی کے طور پر سامنے آیا ہے۔
ایک مطالعے میں دیکھا گیا کہ جب افراد نے اپنا ناشتہ 90 منٹ دیر سے اور رات کا کھانا 90 منٹ پہلے کھایا تو ان کے کھانے کا مجموعی وقت کم ہو گیا، جس کے نتیجے میں بھوک میں کمی اور جسمانی چربی میں واضح کمی دیکھنے میں آئی۔
مزید برآں، ایک اور تحقیق سے معلوم ہوا کہ جو لوگ دوپہر کا کھانا وقت پر کھاتے ہیں، وہ ان افراد کے مقابلے میں زیادہ متوازن وزن رکھتے ہیں جو دیر سے کھانا کھاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق صرف خوراک کی مقدار ہی نہیں بلکہ اسے کھانے کا انداز بھی اہم ہے۔ آہستہ کھانا اور اچھی طرح چبانا ہاضمے کو بہتر بناتا ہے اور جسم کو خوراک سے زیادہ مؤثر طریقے سے توانائی حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا بھی اس پورے عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے ضروری ہے کہ ہم صرف کیلوریز پر توجہ دینے کے بجائے اپنی کھانے کی عادات، اوقات اور خوراک کے معیار کو بھی بہتر بنائیں۔

Leave a reply