جاپان پر بحری مشن میں کردار ادا کرنے کے لیے دباؤ بڑھنے کا خدشہ

0
22
جاپان پر بحری مشن میں کردار ادا کرنے کے لیے دباؤ بڑھنے کا خدشہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں جاپان کی وزیرِاعظم سانائے تکائچی سے ملاقات کریں گے، جس میں ایران سے متعلق کشیدگی اور وسیع تر سیکیورٹی تعاون اہم موضوعات ہو سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ٹرمپ بعض اتحادی ممالک سے اس بات پر ناخوش رہے ہیں کہ انہوں نے امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ عسکری حکمتِ عملی کی مکمل حمایت نہیں کی۔ اس کے باوجود واشنگٹن خلیج کے خطے میں اپنی موجودگی بڑھانے اور بحری سلامتی کے لیے مزید تعاون کا خواہاں ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں، جہاں حالیہ تناؤ کے باعث جہاز رانی متاثر ہوئی ہے۔

جاپان کے لیے یہ معاملہ حساس ہے کیونکہ وہاں ایران سے متعلق کسی بھی فوجی مشن کی حمایت مقبول نہیں۔ اسی وجہ سے جاپانی حکومت اب تک کسی عملی فوجی کردار کی واضح یقین دہانی نہیں کرا سکی۔ یورپ کے کئی اتحادی ممالک بھی اسی نوعیت کے مشنز سے فاصلے پر ہیں۔

سانائے تکائچی نے جاپانی پارلیمان میں پہلے ہی اشارہ دیا ہے کہ اگر امریکا کی طرف سے کوئی باضابطہ درخواست آتی ہے تو اس کا جائزہ آئینی حدود کے اندر لیا جائے گا۔ دوسری طرف ٹوکیو کی کوشش ہے کہ وہ خطے میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ اور تائیوان کے گرد سیکیورٹی خدشات کو بھی امریکی قیادت کے سامنے اجاگر کرے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا جاپان سے یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ وہ میزائل سازی یا مشترکہ دفاعی پیداوار میں مزید کردار ادا کرے، تاکہ امریکا پر عالمی سطح پر اسلحہ کی بڑھتی ہوئی طلب کا دباؤ کم کیا جا سکے۔ جاپان اس حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔

اسی دوران جاپان اپنے نئے دفاعی منصوبے میں بھی امریکا کو آگاہ کرے گا، جس کا مقصد خلائی نگرانی اور میزائل خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔

امریکی اور جاپانی حکام کے مطابق ملاقات میں صرف دفاعی امور ہی نہیں بلکہ تجارتی تعلقات، توانائی تعاون، سپلائی چینز اور سائنسی و تکنیکی شراکت داری جیسے معاملات بھی زیرِ بحث آئیں گے۔

Leave a reply