آبنائے ہرمز کا انوکھا جزیرہ جہاں سرخ مٹی بھی کھانے میں استعمال ہوتی ہے

0
24
آبنائے ہرمز کا انوکھا جزیرہ جہاں سرخ مٹی بھی کھانے میں استعمال ہوتی ہے

آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایک خوبصورت جزیرہ اپنی رنگ برنگی مٹی اور منفرد روایتی کھانوں کی وجہ سے دنیا بھر میں توجہ حاصل کر رہا ہے۔ اس جزیرے کی زمین میں مختلف رنگوں کی مٹی پائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے اسے عام طور پر “رینبو آئی لینڈ” بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں سرخی مائل، زرد اور دیگر کئی رنگوں کی مٹی دیکھی جا سکتی ہے، جو اس علاقے کو قدرتی طور پر خاص بناتی ہے۔

اس جزیرے کی مقامی ثقافت میں ایک دلچسپ روایت بھی شامل ہے، جہاں لوگ سرخ مٹی کو ایک خاص قسم کی مچھلی کی چٹنی بنانے میں استعمال کرتے ہیں۔ اس چٹنی کو مقامی طور پر “سوراغ” کہا جاتا ہے۔ یہ صرف ایک کھانا نہیں بلکہ زمین اور سمندر کے امتزاج سے جنم لینے والی ایک قدیم روایت سمجھی جاتی ہے۔

مقامی افراد کے مطابق یہاں پائی جانے والی سرخ مٹی معدنیات خصوصاً آئرن سے بھرپور ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اسے روایتی طور پر کھانوں میں بطور مصالحہ شامل کیا جاتا ہے۔ بعض لوگ یہ بھی مانتے ہیں کہ اس میں جراثیم کش خصوصیات ہوتی ہیں جو گرم موسم میں مچھلی کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

یہ چٹنی گہرے سرخ رنگ کی ہوتی ہے اور اس کا ذائقہ نمکین، قدرے کھٹا اور ہلکا سا مٹی جیسا محسوس ہوتا ہے۔ اسے عام طور پر مقامی نرم اور باریک روٹی کے ساتھ کھایا جاتا ہے، جبکہ بعض لوگ اسے چاول، دال یا سمندری خوراک کے ساتھ بھی پسند کرتے ہیں۔

اس چٹنی کی تیاری میں کئی ہفتے لگ جاتے ہیں۔ ابتدا میں تازہ مچھلی کو اچھی طرح صاف کر کے اس پر نمک لگایا جاتا ہے۔ اس کے بعد مچھلی کو مٹی کے برتن میں رکھ کر بند کر دیا جاتا ہے اور تقریباً دو ہفتے تک دھوپ میں رکھا جاتا ہے تاکہ اس میں خمیر پیدا ہو جائے۔

اس مرحلے کے بعد مچھلی کو نکال کر اس پر سرخ مٹی اچھی طرح مل دی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ خشک مالٹے کے چھلکے اور لیموں کے پتے بھی شامل کیے جاتے ہیں۔

بعد ازاں اس آمیزے کو مزید چند ہفتوں تک دھوپ میں رکھا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ مرکب ایک گہرے رنگ اور تیز ذائقے والی چٹنی میں تبدیل ہو جاتا ہے، جسے مختلف روایتی کھانوں کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔

Leave a reply