ایران سے منسلک تین آئل ٹینکرز ضبط، بھارت کی سمندری نگرانی سخت

بھارت نے ایران سے منسلک مزید تین آئل ٹینکرز کو تحویل میں لینے کے بعد اپنے سمندری علاقوں میں نگرانی سخت کر دی ہے تاکہ غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں کی روک تھام کی جا سکے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ اقدام کا مقصد ملکی پانیوں کو مبینہ طور پر شپ ٹو شپ تیل منتقلی کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جن جہازوں کو روکا گیا ان میں آسفالٹ اسٹار، اسٹیلر روبی اور آل جفزیا شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ جہاز مبینہ طور پر اپنی شناخت اور جھنڈے تبدیل کرتے رہے تاکہ ساحلی نگرانی سے بچ سکیں۔ ان جہازوں کے مالکان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ بیرون ملک مقیم ہیں۔
رپورٹس کے مطابق 6 فروری کو حکام نے اعلان کیا تھا کہ انڈین کوسٹ گارڈ نے ممبئی کے مغرب میں تقریباً 100 بحری میل کے فاصلے پر تین جہازوں کو روکا۔ یہ کارروائی اُس وقت کی گئی جب بھارت کے خصوصی اقتصادی زون میں ایک ٹینکر کی مشتبہ سرگرمی کی نشاندہی ہوئی۔
بعد ازاں سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ابتدائی پوسٹ ہٹا دی گئی، تاہم میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ جہازوں کو مزید تفتیش کے لیے ممبئی منتقل کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق حکام نے اپنے سمندری زونز میں 55 جہاز اور 10 سے 12 طیارے تعینات کیے ہیں تاکہ چوبیس گھنٹے نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یو ایس اور انڈیا کے درمیان تعلقات میں بہتری کی اطلاعات ہیں۔ حالیہ دنوں میں واشنگٹن کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ بھارتی مصنوعات پر درآمدی محصولات میں نمایاں کمی کی جائے گی، جب کہ نئی دہلی نے روسی تیل کی درآمد سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کا عندیہ دیا تھا۔









