
آج کل کھانے کے فوراً بعد ٹھنڈا سوڈا پینا بہت سے لوگوں کی عادت بن چکا ہے، خصوصاً نوجوانوں میں اس کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اکثر افراد اسے ہاضمے کے لیے مفید سمجھتے ہیں اور ڈکار کو راحت کی علامت قرار دیتے ہیں، تاہم ماہرین صحت اس عادت کو نقصان دہ قرار دیتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق سوڈا میں موجود کاربونیشن، زائد چینی اور تیزابیت معدے کے قدرتی تیزاب (ہائیڈروکلورک ایسڈ) کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔ یہ تیزاب پروٹین کو ہضم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب اس کا توازن بگڑ جائے تو کھانا مکمل طور پر ہضم نہیں ہو پاتا، جس کے نتیجے میں گیس، اپھارہ، سینے کی جلن اور تھکن جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ مقدار میں سوڈا کا استعمال آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ یہ بیکٹیریا نہ صرف نظامِ ہاضمہ بلکہ قوتِ مدافعت اور ذہنی توازن کے لیے بھی اہم سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں کمی مختلف جسمانی مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔
بعض ماہرین کے مطابق باقاعدگی سے میٹھے مشروبات کا استعمال مردوں میں ہارمونز کے توازن کو بھی متاثر کر سکتا ہے، جس سے توانائی اور عمومی صحت پر اثر پڑ سکتا ہے۔
ماہرین صحت تجویز کرتے ہیں کہ سوڈا کے بجائے قدرتی اور صحت بخش مشروبات کو ترجیح دی جائے۔ مثال کے طور پر سادہ پانی، اسپارکلنگ واٹر (بغیر چینی)، گھر میں تیار کردہ فروٹ انفیوژڈ واٹر یا ہربل چائے بہتر انتخاب ہو سکتے ہیں۔
ہاضمے کے لیے ایک روایتی مشروب اجوائن، ثابت دھنیا اور سونف سے تیار کیا جاتا ہے۔ ان تینوں اجزاء کو پیس کر محفوظ کر لیا جائے اور ایک چمچ آمیزہ تقریباً 200 ملی لیٹر پانی میں ابال کر یا کچھ دیر بھگو کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ مشروب گیس اور بدہضمی میں مددگار سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر ہاضمے کے مسائل مسلسل رہیں تو خود علاج کے بجائے کسی مستند ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔ صحت مند عادات اپنانا ہی طویل مدت میں بہتر صحت کی ضمانت بن سکتا ہے۔









