راج پال یادو کے قانونی معاملے پر فلمی برادری کا اظہارِ یکجہتی، اہلیہ کا شکریہ

0
28
راج پال یادو کے قانونی معاملے پر فلمی برادری کا اظہارِ یکجہتی، اہلیہ کا شکریہ

بالی ووڈ کے معروف کامیڈین اداکار راج پال یادو اس وقت ایک قانونی تنازع کے باعث خبروں میں ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے چیک باؤنس کیس میں مزید مہلت دینے سے انکار کے بعد انہوں نے تہاڑ جیل میں خود کو حکام کے حوالے کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکار پر تقریباً 9 کروڑ روپے کی ادائیگی واجب الادا ہے۔ عدالت نے پرانے قرض سے متعلق سات مختلف مقدمات میں فی کس 1.35 کروڑ روپے ادا کرنے کا حکم دیا ہے، جبکہ جمع شدہ رقم مدعی کے حق میں جاری کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
اس پیش رفت کے بعد فلمی دنیا کی متعدد شخصیات راج پال یادو کی حمایت میں سامنے آئی ہیں۔ ان کی اہلیہ رادھا یادو نے ایک خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انڈسٹری کے ساتھی مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ سب کے تعاون پر شکر گزار ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اداکار سونو سود، گلوکار میکا سنگھ اور اداکار گرومیت چودھری سمیت کئی فنکاروں نے مالی مدد کی پیشکش کی ہے۔ سلمان خان، اجے دیوگن اور ورون دھون نے بھی ٹیلی فون پر رابطہ کر کے تعاون کا یقین دلایا ہے۔ اگرچہ امداد کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ مدد کے وعدے کیے جا چکے ہیں۔
راج پال یادو کے منیجر گولڈی کا کہنا ہے کہ فلمی برادری مسلسل رابطے میں ہے، تاہم مالی معاملات کو حتمی شکل دینے میں وقت درکار ہوتا ہے۔ خاندان کو امید ہے کہ ضمانت کی درخواست پر متوقع سماعت کے بعد صورتحال میں بہتری آئے گی۔
یہ تنازع دراصل 2010 میں لی گئی ایک مالی معاونت سے جڑا ہے۔ راج پال یادو نے اپنی ہدایت کاری میں بننے والی فلم “اتا پتا لاپتا” کے لیے ایک نجی کمپنی سے 5 کروڑ روپے قرض حاصل کیا تھا۔ فلم کی ناکامی کے باعث قرض کی واپسی ممکن نہ ہو سکی، جس پر قانونی کارروائی عمل میں آئی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ سونو سود نے نہ صرف حمایت کا اعلان کیا بلکہ اپنی نئی فلم میں راج پال یادو کو کاسٹ کرنے اور سائننگ اماؤنٹ بطور پیشگی رقم دینے کا بھی عندیہ دیا ہے، جسے انڈسٹری میں مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر قانونی پیش رفت سازگار رہی تو اہلِ خانہ جلد میڈیا سے گفتگو کر کے آئندہ حکمتِ عملی سے آگاہ کریں گے۔
راج پال یادو نیشنل اسکول آف ڈرامہ کے فارغ التحصیل ہیں اور متعدد مقبول فلموں میں اپنی جاندار مزاحیہ اداکاری کے باعث پہچانے جاتے ہیں۔ وہ حال ہی میں زی فائیو کی فلم “انٹرروگیشن” میں دکھائی دیے، جبکہ “بھول بھلیاں 2 اور 3″، “ہنگامہ” اور “گرم مسالا” جیسی فلمیں ان کے نمایاں کام میں شامل ہیں۔ آئندہ وہ “ویلکم ٹو دی جنگل” اور “بھوت بنگلہ” میں نظر آئیں گے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ فلمی برادری کی یہ حمایت انہیں موجودہ مالی بحران سے نکالنے میں کس حد تک معاون ثابت ہوتی ہے۔

Leave a reply