سردار اختر مینگل کی قومی اسمبلی رکنیت کا استعفا منظور، این اے 256 خالی ہو گئی

0
31
سردار اختر مینگل کی قومی اسمبلی رکنیت کا استعفا منظور، این اے 256 خالی ہو گئی

بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل کا قومی اسمبلی سے استعفا بالآخر منظور کر لیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے این اے 256 (خضدار) سے منتخب رکن سردار اختر مینگل کا استعفا قبول کر لیا، جس کے بعد یہ نشست باضابطہ طور پر خالی ہو گئی ہے۔
سردار اختر مینگل نے اپنا استعفا 3 ستمبر 2024 کو دیا تھا، لیکن اس کی منظوری تقریباً 17 ماہ بعد عمل میں آئی۔ انہوں نے استعفے کے خط میں لکھا کہ بلوچستان کی موجودہ سیاسی و معاشرتی صورتحال نے انہیں یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے مسائل اور عوام کی مشکلات کے حل میں وہ اسمبلی میں رہ کر مؤثر کردار ادا نہیں کر پا رہے۔
ماضی میں میڈیا سے گفتگو میں سردار اختر مینگل نے کہا تھا کہ وہ امید کے ساتھ ایک حکومت چھوڑ کر دوسری حکومت میں آئے تھے کہ بلوچستان کے مسائل حل ہوں گے، لیکن یہ ممکن نہ ہو سکا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اسمبلی عوام کی آواز نہیں سنتی تو وہاں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں، اور سیاست کرنے کے بجائے وہ پکوڑوں کی دکان کھولنا بہتر سمجھتے ہیں۔
بی این پی کے سربراہ نے تسلیم کیا کہ ان کے تقریباً 65 ہزار ووٹرز ان کے فیصلے پر ناراض ہو سکتے ہیں، تاہم انہوں نے معافی کی درخواست کی۔
سردار اختر مینگل فروری 2024 کے عام انتخابات میں این اے 256 خضدار سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ انہوں نے اسمبلی یا وفاقی حکومت سے مایوسی کا اظہار کیا ہو۔ جون 2020 میں بھی انہوں نے سابقہ حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ بی این پی نے وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کیا، مگر بلوچستان اور پارٹی کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچا۔

Leave a reply