
لاہور میں تین روزہ بسنت فیسٹیول مکمل ہونے کے بعد شہر میں دوبارہ پتنگ بازی اور ڈور کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ حکومت نے بسنت کی تقریبات کے لیے صرف 6، 7 اور 8 فروری کو محدود اجازت دی تھی تاکہ شہری محفوظ اور منظم انداز میں یہ روایتی تہوار منا سکیں۔
انتظامیہ کے مطابق بسنت کے اختتام کے بعد پتنگ بازی سے متعلق تمام سرگرمیاں قانونی طور پر ممنوع قرار دی گئی ہیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ بسنت کے اختتام کے بعد شہر میں معمولاتِ زندگی بحال ہو گئے، دفاتر، اسکول اور کالجز دوبارہ کھل گئے، تاہم شہریوں کے ذہنوں میں تہوار کی یادیں ابھی تازہ ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بسنت کے دوران لاہور میں مجموعی طور پر چار سے چھ ارب روپے کا کاروبار ہوا، جس میں پتنگ اور ڈور کی خرید و فروخت، کھانے پینے کی اشیا اور سفر شامل تھے۔ صرف پتنگ اور ڈور کی فروخت سے دو ارب روپے سے زائد کا کاروبار ہوا۔ فاسٹ فوڈ، مٹھائی اور پولٹری مصنوعات کی فروخت سے بھی کروڑوں روپے کی آمدنی ہوئی۔
بسنت میں شہر کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ معروف شخصیات اور بین الاقوامی مہمان بھی لاہور میں بسنت منانے پہنچے اور پتنگ بازی میں حصہ لیا۔ تین دن تک بچے، نوجوان، بزرگ اور خواتین سب ہی بسنت کی خوشیوں میں شریک نظر آئے، چھتوں پر پتنگیں اڑائی گئیں، پیچے لڑائے گئے اور دعوتوں کا اہتمام کیا گیا۔
تاریخی دہلی گیٹ اور لبرٹی چوک میں شاندار تقریبات کا انعقاد کیا گیا، جہاں موسیقی اور پرفارمنس کا بھی اہتمام تھا۔ وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب اور دیگر سرکاری شخصیات نے مہمانوں کا استقبال کیا، جبکہ امریکی ناظم الامور نے بھی بسنت کی تقریبات میں حصہ لیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں بسنت انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ تین دن کے دوران نو لاکھ سے زائد گاڑیوں کی آمد ریکارڈ کی گئی، جبکہ سرکاری بسوں پر تقریباً 14 لاکھ افراد نے سفر کیا۔ وزیراعلیٰ نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور شہریوں کے تعاون کو سراہا۔
دوسری جانب بسنت کے دوران کچھ افسوسناک حادثات بھی پیش آئے۔ ہیڈ مرالہ کے قریبی گاؤں کے نوجوان اور ایک صحافی چھت سے گر کر جان کی بازی ہار گئے، جس پر اہل خانہ اور متعلقہ حلقوں میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔
بسنت تہوار نے جہاں شہر کو ثقافتی رونق اور معاشی سرگرمیاں دیں، وہیں چند جانوں کے ضیاع نے خوشیوں کے موقع پر غم بھی ڈال دیا۔









