
ممبئی: بولی وُڈ کی مقبول کامیڈی فلم سیریز “ہیرا پھیری 3” ایک بار پھر قانونی مشکلات کا شکار ہو گئی ہے۔
ابتدائی طور پر یہ اعلان کیا گیا تھا کہ سپر اسٹار اکشے کمار نے پروڈیوسر فیروز نادیاد والا سے حقوق حاصل کر کے فلم کی تیاری شروع کر دی ہے۔ تاہم، اب جنوبی بھارت کی پروڈکشن کمپنی سیون آرٹس انٹرنیشنل نے عدالت میں دعویٰ دائر کیا ہے کہ “ہیرا پھیری” فرنچائز کے اصل حقوق ان کے پاس ہیں، نہ کہ نادیاد والا یا اکشے کمار کے پاس۔
سیون آرٹس کے منیجنگ ڈائریکٹر جی پی وجے کمار کے مطابق، انہوں نے فرنچائز کے تمام حقوق 1989 کی ملیالم فلم “رام جی راؤ اسپیکنگ” کے پروڈیوسرز سے خریدے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ نادیاد والا کو صرف پہلی فلم کے ہندی ریمیک کے لیے اجازت دی گئی تھی، لیکن بعد میں سیکوئل بنانے سے وہ معاہدے کی خلاف ورزی کر گئے۔
وجے کمار کے مطابق، جب انہوں نے نیا ہندی ورژن بنانے کا منصوبہ بنایا اور اکشے کمار سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ نادیاد والا پہلے ہی حقوق بیچ چکے ہیں۔ انہوں نے اس معاملے میں قانونی کارروائی کرتے ہوئے عدالت میں درخواست دائر کر دی ہے۔
فلم کے ممکنہ ہدایتکار پریہ درشن نے کہا کہ انہیں اس قانونی تنازعے کا علم نہیں، جبکہ اکشے کمار کی پروڈکشن ٹیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے نادیاد والا کو قانونی مالک سمجھ کر حقوق خریدے۔ فیروز نادیاد والا کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
“ہیرا پھیری 3” کے مرکزی کردار راجو، شیام اور بابوراو پر مبنی یہ فلم بولی وُڈ کے سب سے زیادہ انتظار کیے جانے والے پروجیکٹس میں شامل ہے۔ پچھلے سال پروجیکٹ وقتی طور پر رک گیا تھا، لیکن پارش راوال دوبارہ شامل ہونے کے بعد مسائل حل کر لیے گئے ہیں۔









