پاکستان کا اقوام متحدہ میں بی ایل اے پر عالمی پابندی عائد کرنے کا مطالبہ

0
72
پاکستان کا اقوام متحدہ میں بی ایل اے پر عالمی پابندی عائد کرنے کا مطالبہ

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک بار پھر عالمی برادری کی توجہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کی جانب مبذول کراتے ہوئے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار نے اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ دہشت گردی اب کسی ایک ملک تک محدود مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں سیاسی تبدیلی کے بعد بعض شدت پسند گروہوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملا، جس کے نتیجے میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر تنظیموں نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دیں۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچ لبریشن آرمی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں متعدد پرتشدد کارروائیوں میں ملوث رہی ہے، جن کے نتیجے میں درجنوں بے گناہ شہری اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ عاصم افتخار نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اس تنظیم کو عالمی دہشت گرد فہرست میں شامل کر کے اس کے خلاف سخت پابندیاں عائد کرے۔
پاکستانی مندوب نے اس تشویش کا اظہار بھی کیا کہ بعض دہشت گرد گروہ افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں حملے کر رہے ہیں، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، جو عالمی برادری کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔
دوسری جانب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی میں ملوث کسی فرد یا اس کے معاون کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں دشمن عناصر کے عزائم کو ناکام بنا کر امن کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور تشدد کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کابینہ اجلاس سے خطاب میں اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔ انہوں نے شہریوں، سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں اور خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مشترکہ کوششوں سے ہی ملک میں پائیدار امن ممکن ہے۔

Leave a reply