
پندرہ فروری کو پاکستان اور بھارت کے درمیان مجوزہ ٹی ٹوئنٹی میچ کے انعقاد سے انکار کے بعد عالمی کرکٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ پاکستان کے فیصلے نے نہ صرف شائقین بلکہ بین الاقوامی کرکٹ کے انتظامی اور تجارتی اداروں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس فیصلے کے نتیجے میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو بھاری مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ مجموعی نقصان ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے، جبکہ ادارے کی متوقع آمدنی کا بڑا حصہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
میچ کی منسوخی سے براڈکاسٹنگ کمپنیوں کو بھی نمایاں نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، کیونکہ اشتہارات، نشریاتی حقوق اور دیگر تجارتی معاہدے اس بڑے مقابلے سے جڑے ہوئے تھے۔ اسی طرح ٹکٹوں کی فروخت اور اسپانسرشپ سے حاصل ہونے والی آمدنی میں بھی واضح کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے بھی صورتحال آسان نہیں۔ میچ نہ ہونے کی صورت میں ٹیم کو قیمتی پوائنٹس سے محرومی کے ساتھ ساتھ مالی خسارے کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ آئی سی سی کی سالانہ فنڈنگ اور کمرشل آمدنی پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی عدم شرکت سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی مجموعی ویورشپ اور مارکیٹ ویلیو بھی متاثر ہو سکتی ہے، جس پر عالمی کرکٹ کے تجارتی حلقوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔
اس فیصلے نے بھارتی کرکٹ بورڈ اور آئی سی سی دونوں کو ایک مشکل صورتحال میں لا کھڑا کیا ہے، جہاں انہیں مالی اور تشہیری چیلنجز کا سامنا ہے۔ اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ عالمی کرکٹ کے ذمہ دار ادارے اس تعطل سے نمٹنے کے لیے کیا حکمتِ عملی اختیار کرتے ہیں۔









