
اکثر افراد گردن پر پڑنے والی سیاہ تہہ یا لکیروں کو صفائی کی کمی سمجھ کر صابن، اسکرب یا مختلف کریموں سے رگڑ کر ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم ماہرینِ صحت کے مطابق یہ مسئلہ صرف ظاہری خوبصورتی سے متعلق نہیں بلکہ جسم میں چھپے سنگین طبی مسائل کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔
طب میں اس کیفیت کو ایکانتھوسس نگریکینس کہا جاتا ہے، جس میں جلد موٹی، کھردری اور گہرے رنگ کی ہو جاتی ہے۔ یہ تبدیلی عموماً گردن، بغلوں، کہنیوں اور جسم کے دیگر موڑوں پر ظاہر ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق جب جسم میں انسولین ریزسٹنس، شوگر، ہارمونی خرابی یا موٹاپا پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات سب سے پہلے جلد پر نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ دراصل جلد ہمارے جسم کا وہ حصہ ہے جو اندرونی خرابیوں کے بارے میں بروقت خبردار کرتا ہے۔
ماہرِ امراضِ جلد کا کہنا ہے کہ گردن کا سیاہ ہونا اکثر ذیابیطس، تھائیرائیڈ کے مسائل اور ہارمونز کے عدم توازن سے جڑا ہوتا ہے۔ صرف بیرونی علاج یا کریمیں استعمال کرنا مسئلے کو چھپا تو سکتا ہے، ختم نہیں کرتا۔
خواتین میں یہ علامت خاص طور پر پولی سسٹک اووری سنڈروم (PCOS) کی طرف اشارہ کر سکتی ہے، جس کے ساتھ بے قاعدہ ماہواری، وزن میں اضافہ، چہرے پر دانے اور جسم پر زائد بال بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق بعض صورتوں میں وٹامن بی 12 یا وٹامن ڈی کی کمی اور جسم میں دیرپا سوزش بھی جلد کے رنگ کو متاثر کر سکتی ہے، اس لیے مکمل طبی جانچ نہایت ضروری ہے۔
ماہرینِ ذیابیطس خبردار کرتے ہیں کہ جسم میں انسولین کی مسلسل زیادتی جلد کے خلیوں کی غیر معمولی افزائش کا سبب بنتی ہے، جو گردن کے سیاہ ہونے کو پری ڈایابیٹیز یا ٹائپ 2 شوگر کی ابتدائی علامت بنا دیتی ہے۔
صحت کے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ متوازن غذا اپنائی جائے، میٹھے اور جنک فوڈ سے پرہیز کیا جائے، وزن کو قابو میں رکھا جائے اور روزانہ ورزش کو معمول بنایا جائے۔
اس کے علاوہ ڈاکٹر کے مشورے سے وقتاً فوقتاً بلڈ شوگر، تھائیرائیڈ، ہارمونز اور انسولین کے ٹیسٹ کروانا صحت کے لیے نہایت اہم ہے۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خود سے کسی کریم یا دوا کا استعمال کرنے کے بجائے بروقت طبی مشورہ لیا جائے، کیونکہ گردن پر نظر آنے والا یہ سیاہ نشان بظاہر معمولی مگر صحت کے لیے ایک سنجیدہ وارننگ ہو سکتا ہے۔








