وزیراعلیٰ بلوچستان کا دہشتگردی کے خلاف کامیاب آپریشن پر بیان

0
79
وزیراعلیٰ بلوچستان کا دہشتگردی کے خلاف کامیاب آپریشن پر بیان

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں ریاست نے کبھی طاقت کا غیر ضروری استعمال نہیں کیا، جبکہ دہشتگرد معصوم بچوں اور شہریوں کو اپنے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے سیکیورٹی فورسز کی ذمہ دارانہ کارروائیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے صوبے کو ایک بڑے المیے سے بچا لیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے پریس کانفرنس کے دوران شہداء اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بتایا کہ انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر صوبے میں بڑے دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی کی اطلاع ملی تھی، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کی۔
ان کے مطابق شعبان اور پنجگور میں 40 دہشتگرد مارے گئے، جبکہ گزشتہ 40 گھنٹوں میں مجموعی طور پر 145 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال کے دوران صوبے میں 1500 سے زائد دہشتگردوں کو ناکارہ بنایا جا چکا ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ گوادر میں ایک بلوچ خاندان کو نشانہ بنایا گیا، جس میں پانچ خواتین اور تین بچے شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد بلوچ قوم کو ایندھن بنا رہے ہیں اور معصوم شہریوں کو اپنی کارروائیوں کا ہدف بنا رہے ہیں۔
سرفراز بگٹی نے الزام لگایا کہ جب بھی پاکستان ترقی کرتا ہے، بھارت خطے میں پاکستان کی اہمیت کم کرنے کے لیے سازشیں کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم بی ایل اے کوئی سیاسی جماعت نہیں، بلکہ بندوق کے زور پر اپنے نظریات مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ دہشتگرد ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، مگر سیکیورٹی فورسز نے انہیں ناکام بنایا۔ نوشکی میں آپریشن کے دوران وقت ضرور لگا، لیکن کارروائی کامیابی سے مکمل کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو امن کی طرف لے جانا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور دہشتگردوں کے آگے سر نہیں جھکایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ بھارتی پراکسیز کے خلاف ہے اور احتجاج کے نام پر سڑکیں بند نہیں کی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ نے انکشاف کیا کہ بعض دہشتگرد افغانستان سے بلوچستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں اور افغان سرزمین بھی پاکستان میں دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کی کوئی قوم یا قبیلہ نہیں ہوتا اور بلوچ خواتین کو نشانہ بنانے والوں کی مذمت کی۔
انہوں نے بتایا کہ دہشتگرد سیف سٹی کیمروں اور دیگر تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں، جبکہ 2018 کے بعد انہیں دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملا اور اس دوران متعدد چیک پوسٹیں ختم کر دی گئیں۔

Leave a reply