روس یوکرین جنگ: ٹرمپ کی پیوٹن سے بات، عارضی جنگ بندی کا اعلان

روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع سے متعلق ایک قابلِ توجہ سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ سردیوں کے دوران روس یوکرین کے خلاف حملے نہیں کرے گا، جسے انہوں نے یوکرین کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔
واشنگٹن میں کابینہ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے براہِ راست درخواست کی تھی کہ شدید سرد موسم میں یوکرینی شہروں کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ ان کے مطابق روسی صدر نے ایک محدود مدت کے لیے فوجی کارروائیاں روکنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
امریکی صدر نے بتایا کہ انہیں بریفنگ میں آگاہ کیا گیا ہے کہ روس سردیوں کے سخت موسم میں کیف سمیت یوکرین کے دیگر بڑے شہروں پر حملے یا عسکری سرگرمیاں نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق یہ اقدام انسانی بنیادوں پر اور کشیدگی میں کمی کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
دوسری جانب روس کی حکومت کی طرف سے اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ تاہم یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکی صدر کے بیان کو محتاط امید کے ساتھ سراہا ہے۔
صدر زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین ہر اس کوشش کا خیرمقدم کرتا ہے جو امن کی طرف لے جائے، لیکن اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا روس عملی طور پر اس عارضی جنگ بندی پر عمل کرتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں امریکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے واضح کیا کہ یوکرین زمینی صورتحال پر قریبی نظر رکھے گا۔
ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا یہ سفارتی پیش رفت واقعی تنازع میں کمی کا باعث بنتی ہے یا نہیں۔









