ہائی الرٹ: نیپا وائرس نے پھر دستک دے دی، سینکڑوں افراد قرنطینہ میں

0
44
ہائی الرٹ: نیپا وائرس نے پھر دستک دے دی، سینکڑوں افراد قرنطینہ میں

بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں نیپا وائرس کے دو کیسز سامنے آنے کے بعد صحت حکام نے احتیاطی اقدامات سخت کر دیے ہیں۔ بھارتی وزارتِ صحت کے مطابق متاثرہ افراد کے قریبی رابطے میں آنے والے تقریباً 200 افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا، تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ تمام افراد کے ٹیسٹ منفی آئے اور کسی میں بھی وائرس کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔
نیپا وائرس ایک خطرناک زونوٹک وائرس ہے جو انسانوں اور جانوروں دونوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس وائرس کا پہلا کیس 1999 میں ملائیشیا میں رپورٹ ہوا تھا، جبکہ بعد ازاں بھارت، بنگلہ دیش اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں بھی اس کے کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے نیپا وائرس کو ہائی رسک پیتھوجن قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق نیپا وائرس کا پھیلاؤ عموماً چمگادڑوں سے متاثرہ پھل، کھجور کے رس یا متاثرہ جانوروں کے ذریعے ہوتا ہے۔ کسان، جانوروں کی دیکھ بھال کرنے والے افراد اور صحت کے شعبے سے وابستہ افراد اس وائرس کے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔ یہ وائرس متاثرہ شخص کے تھوک، سانس کی بوندوں یا دیگر جسمانی رطوبت کے ذریعے بھی منتقل ہو سکتا ہے۔
امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کے مطابق نیپا وائرس کا انکوبیشن پیریڈ عموماً 4 سے 21 دن تک ہوتا ہے۔ ابتدائی علامات میں بخار، شدید سر درد، کھانسی، گلے میں درد، سانس لینے میں دشواری، متلی اور قے شامل ہیں۔ شدید صورتوں میں وائرس دماغی سوزش کا سبب بن سکتا ہے، جس سے دورے، بے ہوشی، کوما یا موت کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق نیپا وائرس سے اموات کی شرح 40 سے 75 فیصد تک ہو سکتی ہے، جو اس کی خطرناکی کو ظاہر کرتی ہے۔ بعض مریضوں میں صحت یابی کے بعد بھی طویل المدت اعصابی مسائل دیکھے گئے ہیں۔
فی الحال نیپا وائرس کی کوئی ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں، اس لیے احتیاطی تدابیر ہی واحد مؤثر ذریعہ ہیں۔ حکام نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ چمگادڑ سے متاثرہ پھل یا کھجور کے رس کے استعمال سے گریز کریں، بیمار جانوروں سے دور رہیں، حفاظتی لباس استعمال کریں اور ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت تشخیص، متاثرہ افراد کی علیحدگی اور عوامی آگاہی کے ذریعے اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ صحت حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف مستند ہدایات پر عمل کریں۔

Leave a reply