سعودی عرب میں ریاض کے بڑے منصوبے ‘مکعب’ کی تعمیر عارضی طور پر معطل

سعودی عرب نے دارالحکومت ریاض میں نیو مربع ڈسٹرکٹ کے اہم منصوبے، عمارت کیوب نما ‘مکعب’ کی تعمیر وقتی طور پر روک دی ہے۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ منصوبے کی مالی اور عملی امکانات کا دوبارہ جائزہ لینے کے لیے کیا گیا ہے۔
سعودی خودمختار فنڈ، جس کی مالیت 925 ارب ڈالر ہے، نے اپنے وسائل کے استعمال اور اخراجات پر نظرثانی کے بعد مہنگے منصوبوں میں کمی یا مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام سعودی عرب کے “ویژن 2030” کے تحت مستقبل کے مہنگے منصوبوں میں محتاط رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اب توجہ ایسے منصوبوں پر ہے جو زیادہ فوری اور ممکنہ منافع فراہم کر سکتے ہیں، جیسے کہ 2030 کی عالمی نمائش، 2034 کے فٹبال ورلڈ کپ کے لیے انفراسٹرکچر، 60 ارب ڈالر مالیت کے دریہہ کلچرل زون، اور قدّیہ ٹورزم پروجیکٹ۔
مکعب کی منصوبہ بندی 400 میٹر لمبے اور 400 میٹر چوڑے کیوب کی شکل میں کی گئی تھی، جس کے اندر ایک گنبد نما ڈھانچہ اور دنیا کا سب سے بڑا اے آئی ڈسپلے نصب کیا جانا تھا، جو عمارت کے 300 میٹر بلندی سے دیکھا جا سکتا تھا۔
منصوبے کے سی ای او مائیکل ڈائیک نے پہلے کہا تھا کہ “مکعب میں داخل ہوتے ہی ایک الگ دنیا میں قدم رکھیں گے”، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ اس طرح کے جدید اور منفرد منصوبے کو حقیقت میں لانا آسان نہیں ہے۔
اب مکعب کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، کیونکہ مٹی کی کھدائی اور بنیادوں کے کام کے علاوہ تمام تعمیراتی سرگرمیاں روک دی گئی ہیں، جبکہ ارد گرد کے دیگر رئیل اسٹیٹ منصوبے جاری رہیں گے۔
سعودی عرب نے فیصلہ کیا ہے کہ مالی وسائل زیادہ فائدہ مند اور فوری منافع دینے والے شعبوں میں استعمال کیے جائیں، جیسے کہ انفراسٹرکچر، لاجسٹکس، معدنیات اور مصنوعی ذہانت۔ اس وقت یہ اقدام ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب تیل کی قیمتیں توقع سے کم ہونے کی وجہ سے سرکاری خزانے پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
نیو مربع ڈسٹرکٹ کی کل لاگت تقریباً 50 ارب ڈالر تخمینہ لگائی گئی تھی، جس سے 104,000 رہائشی یونٹس اور 334,000 افراد کے لیے براہِ راست یا غیر مستقیم ملازمتیں فراہم کرنے کا امکان تھا۔
مکعب کے ڈیزائن کو کچھ حلقوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا بھی رہا، کیونکہ اس کی شکل مسجد الحرام میں موجود کعبۃ اللہ کے مشابہ تھی۔








