
نئی دہلی – بھارتی کرکٹ کی دنیا ایک عظیم شخصیت کو کھو گئی ہے۔ آئی ایس بندرا، جو بی سی سی آئی کے سابق صدر اور طویل عرصے تک پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن کے سربراہ رہ چکے تھے، نئی دہلی میں 84 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے جانے پر کرکٹ کے حلقوں، سابق کھلاڑیوں اور منتظمین نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
آئی ایس بندرا نے 1993 سے 1996 تک بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ کی قیادت کی، لیکن ان کی اصل پہچان پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن کے طویل عرصے تک صدر رہنے کے طور پر رہی۔ انہوں نے 1978 سے 2014 تک 36 سال تک پی سی اے کی قیادت کی، اور اسی دوران موہالی میں جدید کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کرائی، جو بعد میں ان کے نام سے منسوب ہوا۔ یہ اسٹیڈیم 2011 کے کرکٹ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل کی میزبانی کے دوران عالمی سطح پر مشہور ہوا، جس میں بھارت نے پاکستان کو شکست دی۔
بندرا نے 1987 کے کرکٹ ورلڈ کپ کے انعقاد میں بھی اہم کردار ادا کیا، جو پہلا ورلڈ کپ تھا جو انگلینڈ سے باہر منعقد ہوا۔ ان کے تعاون سے ایشیائی ممالک، خاص طور پر بھارت، پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کرکٹ کے شعبے میں روابط مضبوط ہوئے، جس سے ایشیا کے کرکٹ اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا۔
سابق بھارتی ٹیم منیجر امرت ماتھر کے مطابق، 1986 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے دوران جب دیگر ممالک نے سیکیورٹی خدشات ظاہر کیے، بندرا نے صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے۔
بی سی سی آئی کے نائب صدر راجیو شکلا نے کہا کہ بندرا نے بھارتی کرکٹ کو مالی اور انتظامی طور پر مضبوط بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کی حکمت عملی نے کرکٹ کے مستقبل کے لیے مستحکم بنیادیں فراہم کیں۔
سابق کھلاڑی ہربھجن سنگھ اور یوراج سنگھ نے بھی سوشل میڈیا پر بندرا کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ہربھجن نے انہیں اپنے لیے باپ جیسا بتایا، جبکہ یوراج نے ان کی بصیرت اور خدمات کو بھارتی کرکٹ کی تاریخ میں یادگار قرار دیا۔








