عالمی سطح پر بچوں کے خشک دودھ کی صنعت غذائی تحفظ کے غیر معمولی بحران سے دوچار

0
62
عالمی سطح پر بچوں کے خشک دودھ کی صنعت غذائی تحفظ کے غیر معمولی بحران سے دوچار

گزشتہ چند ماہ کے دوران بچوں کے خشک دودھ کی عالمی صنعت کو ایک غیر معمولی غذائی تحفظ کے بحران کا سامنا رہا ہے، جس کے نتیجے میں نومبر 2025 سے جنوری 2026 کے درمیان مختلف ممالک میں متعدد مصنوعات احتیاطی طور پر مارکیٹ سے واپس منگوائی گئیں۔
یہ اقدامات ایسے خدشات کے بعد کیے گئے جن میں بعض مصنوعات میں خطرناک بیکٹیریا اور زہریلے اجزا کی ممکنہ موجودگی کی نشاندہی کی گئی۔ صورتحال نے بین الاقوامی ریگولیٹری اداروں اور بڑی غذائی کمپنیوں کو فوری حفاظتی کارروائیوں پر مجبور کر دیا۔
بحران کی ابتدا اس وقت ہوئی جب امریکہ میں ایک بچوں کے دودھ تیار کرنے والی کمپنی کی مصنوعات کے استعمال سے Infant Botulism کے مشتبہ کیسز سامنے آئے۔ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے معاملے کی تحقیقات کے بعد ملک بھر میں متعلقہ مصنوعات کی کھیپیں واپس منگوانے کا اعلان کیا۔ حکام کے مطابق متعدد مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے، جس کے بعد والدین کو بچوں میں ممکنہ علامات جیسے پٹھوں کی کمزوری اور سانس لینے میں دشواری پر نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی۔
بعد ازاں یہ معاملہ دیگر خطوں تک بھی پھیل گیا۔ دسمبر 2025 اور جنوری 2026 کے دوران مختلف بین الاقوامی کمپنیوں نے اپنی مصنوعات میں ایک مخصوص ٹاکسن کے ممکنہ سراغ کے بعد درجنوں ممالک سے دودھ کے فارمولے واپس منگوائے۔ ابتدائی تحقیقات میں آلودگی کا تعلق ایک ایسے خام جزو سے جوڑا گیا جو مختلف کمپنیوں کو ایک ہی سپلائر کے ذریعے فراہم کیا جا رہا تھا۔
کچھ کمپنیوں نے مخصوص پروڈکشن لائنز عارضی طور پر بند کر دیں، جبکہ دیگر نے متعدد ممالک میں احتیاطی واپسی کا فیصلہ کیا۔ مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے چند ممالک میں فوڈ سیفٹی اداروں نے درآمد شدہ کھیپوں کی جانچ مزید سخت کر دی اور صارفین کے لیے احتیاطی فہرستیں جاری کیں۔
ریگولیٹری حکام نے واضح کیا کہ ان اقدامات کا مقصد صارفین، خصوصاً نوزائیدہ بچوں، کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے اور کئی ممالک میں اب تک کسی بیماری کے مصدقہ کیس کی اطلاع نہیں ملی۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ عالمی غذائی سپلائی چین میں موجود کمزوریوں کو اجاگر کرتا ہے، جہاں ایک ہی خام مال فراہم کرنے والے کی سطح پر مسئلہ پیدا ہونے سے دنیا بھر میں پیداواری نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ اس تناظر میں عالمی اداروں اور حکومتوں کی جانب سے سپلائرز کی نگرانی اور غذائی معیار کے نظام کو مزید سخت بنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

Leave a reply