ریسکیو حکام کا ایک ایک لاپتا فرد کی تلاش تک آپریشن جاری رکھنے کا اعلان

0
121
ریسکیو حکام کا ایک ایک لاپتا فرد کی تلاش تک آپریشن جاری رکھنے کا اعلان

کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں پیش آنے والے آتشزدگی کے سانحے کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے، تاہم ریسکیو اور سرچ آپریشن اب بھی جاری ہے۔ حکام کے مطابق اب تک 71 افراد کی اموات کی تصدیق ہوچکی ہے، جب کہ درجنوں افراد تاحال لاپتا ہیں۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ ملبے سے انسانی باقیات ملنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ سینئر فائر افسران کے مطابق اب مکمل لاشوں کے بجائے ہڈیاں برآمد ہو رہی ہیں۔ پولیس سرجن کے مطابق اسپتال منتقل کی جانے والی 71 لاشوں اور باقیات میں سے 22 افراد کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے ممکن ہو سکی ہے، جب کہ دیگر نمونوں کی رپورٹس کا انتظار ہے۔
دوسری جانب لاپتا افراد کی تعداد کے حوالے سے مختلف سرکاری اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ وزیراعلیٰ کے مطابق 82 افراد لاپتا ہیں، جب کہ ضلعی انتظامیہ کے شکایتی سیل نے یہ تعداد 88 بتائی ہے۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشن اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک تمام لاپتا افراد کا سراغ نہ مل جائے۔ عمارت کو منہدم کرنے کا فیصلہ بھی سرچ آپریشن مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
ادھر ملبے سے قیمتی اشیا کی برآمدگی کا عمل بھی مسلسل جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق اب تک تین تجوریاں برآمد کی جا چکی ہیں جن میں کروڑوں روپے کی نقد رقم موجود تھی، جو ضلعی انتظامیہ کی تحویل میں ہے۔ اس کے علاوہ ملکی اور غیر ملکی کرنسی کے جلے اور صحیح حالت میں موجود نوٹس بھی بڑی مقدار میں ملے ہیں۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پلازہ میں موجود بعض سنار کی دکانوں تک ابھی مکمل رسائی حاصل نہیں ہو سکی، جس کے باعث سونے کے ملبے کے ساتھ منتقل ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ممکنہ قیمتی دھات کی موجودگی کے پیش نظر ملبہ منتقل کیے گئے مقامات پر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کے مطابق ریسکیو اور صفائی کے دوران ڈیڑھ کلوگرام سونا بھی برآمد ہوا ہے، جس کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق یہ سونا قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد متعلقہ دکاندار کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
مزید برآں ملبے سے ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈرز بھی ملے ہیں، جنہیں تحقیقات کے لیے ضلعی انتظامیہ کے حوالے کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان ریکارڈرز کی مدد سے آگ لگنے کی وجوہات جاننے میں پیش رفت متوقع ہے۔
انتظامیہ کے مطابق ملبے کی مکمل چھان بین جاری رہے گی اور کسی بھی قیمتی شے کی برآمدگی کو سرکاری ریکارڈ کے مطابق محفوظ کیا جائے گا۔

Leave a reply