عراق نے عین الاسد ایئر بیس پر مکمل کنٹرول سنبھال لیا، امریکی افواج نکل گئیں

بغداد: عراق کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ امریکی افواج نے مغربی عراق میں واقع عین الاسد ایئر بیس سے مکمل انخلا کر لیا ہے، جس کے بعد عراقی فوج نے اس اہم فضائی اڈے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
وزارتِ دفاع کے مطابق یہ اڈہ طویل عرصے تک امریکی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد کے زیرِ استعمال تھا، لیکن اب تمام عسکری اور انتظامی اختیارات عراقی فورسز کے پاس منتقل کر دیے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ اقدام عراق کی خودمختاری اور سکیورٹی کے کنٹرول کے فروغ کا حصہ ہے۔ امریکی افواج اب اپنی توجہ شام میں موجود داعش کے باقی ماندہ عناصر کے خلاف کارروائیوں پر مرکوز کریں گی۔
عراقی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی کہ عین الاسد ایئربیس کا کنٹرول مکمل طور پر عراقی فوج کے پاس ہے، اور چند امریکی اہلکار صرف عارضی طور پر لاجسٹک معاملات کے لیے موجود ہیں۔
عراق میں داعش کی تنظیم کو 2017 میں شکست دی جا چکی ہے، تاہم عراقی فورسز اب بھی ملک میں باقی ماندہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ 2024 میں واشنگٹن اور بغداد کے درمیان ایک مفاہمت ہوئی تھی، جس میں امریکی قیادت میں اتحاد کے تدریجی انخلا اور دو طرفہ دفاعی تعلقات قائم کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔ ابتدائی منصوبے کے مطابق کچھ امریکی فوجیوں کا واپس جانا 2025 تک ہونا تھا جبکہ مکمل انخلا 2026 کے آخر تک متوقع تھا، تاہم تازہ پیش رفت سے یہ عمل تیز ہو گیا ہے۔








