
کارنیگی میلون یونیورسٹی کے محققین نے ایک جدید طریقہ وضع کیا ہے جس کے ذریعے روزمرہ کے وائی فائی سگنلز کو استعمال کرتے ہوئے کمرے کے اندر لوگوں کی حرکت اور پوزیشن کی درست شناخت کی جا سکتی ہے۔
یہ ٹیکنالوجی روایتی کیمروں یا لائیڈار سسٹمز کے بغیر گھر یا دفتر میں موشن ڈیٹیکشن ممکن بناتی ہے، اور اس کے لیے صرف موجودہ وائی فائی روٹرز اور سافٹ ویئر الگورتھمز کی ضرورت ہوتی ہے۔
سسٹم وائی فائی سگنلز میں پیدا ہونے والی معمولی تبدیلیوں کا تجزیہ کرتا ہے جو انسانی جسم یا اشیاء سے ٹکرانے کے دوران سامنے آتی ہیں۔ پھر ایک نیورل نیٹ ورک ان سگنلز کو تھری ڈی ماڈل میں تبدیل کرتا ہے، جس سے نہ صرف حرکت بلکہ جسمانی حرکات جیسے بیٹھنا یا کھڑا ہونا بھی پہچانی جا سکتی ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی بزرگ افراد کی نگرانی، گھر کی حفاظت، اور ایمرجنسی ریسکیو آپریشنز میں مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ چونکہ اس میں کیمروں کی ضرورت نہیں، اس لیے ذاتی پرائیویسی بھی کچھ حد تک برقرار رہتی ہے۔
دوسری جانب، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے ذاتی حرکت کو ٹریک کیا جا سکتا ہے، لہذا پرائیویسی کے تحفظ کے لیے حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔ محققین مستقبل میں سسٹم میں پرائیویسی فیچرز شامل کرنے پر کام کر رہے ہیں تاکہ یہ محفوظ اور ذمہ دارانہ طریقے سے استعمال ہو سکے۔
اگر یہ تحقیق عملی شکل اختیار کر لے تو یہ کم لاگت والے اسمارٹ ہومز، بزرگوں کی دیکھ بھال، اور ہوم سیکورٹی کے شعبے میں انقلاب لا سکتی ہے، بشرطیکہ استعمال قانونی اور اخلاقی حدود میں ہو۔









