بدلتی عالمی سیاست میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار

بدلتی عالمی سیاست میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار

تحریر:محمد گوہر

علاقائی اور عالمی سیاست میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کے تناظر میں پاکستان کی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جغرافیائی محلِ وقوع، نظریاتی تشخص اور سفارتی بصیرت نے پاکستان کو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی سطح پر ایک مؤثر ریاست کے طور پر نمایاں کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں پاکستان کے کردار کو نظرانداز کرنا اب ممکن نہیں رہا۔
پاکستان وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور چین کے درمیان ایک قدرتی پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ جغرافیائی اہمیت پاکستان کو علاقائی سلامتی، تجارت اور سفارت کاری میں کلیدی مقام عطا کرتی ہے۔ اسی بنیاد پر عالمی طاقتیں، بالخصوص امریکا، چین اور یورپی ممالک، پاکستان کے کردار پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
گزشتہ برسوں میں پاکستان کے سفارتی رویے میں حقیقت پسندی، توازن اور اسمارٹ ڈپلومیسی واضح طور پر نظر آئی ہے۔ منفی پروپیگنڈے اور دباؤ کے باوجود پاکستان نے تاریخی شعور اور قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے مؤقف کو عالمی برادری کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کئی اہم مواقع پر پاکستان کا مؤقف تسلیم کیا گیا اور اس کی ساکھ میں اضافہ ہوا۔
2025 میں پاک بھارت کشیدگی اور مختصر فوجی تصادم کے بعد عالمی ردِعمل اس بات کا ثبوت بنا کہ پاکستان کو ایک ذمہ دار اور بالغ ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ متعدد عالمی دارالحکومتوں میں پاکستان کے موقف کو سنجیدگی سے سنا گیا، جب کہ بھارت کو سفارتی سطح پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بین الاقوامی میڈیا میں بھی یہ تاثر ابھرا کہ خطے میں طاقت کا توازن یک طرفہ نہیں رہا۔
امریکا کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں بھی پاکستان نے ایک محتاط مگر مؤثر حکمتِ عملی اپنائی۔ دہشت گردی کے خلاف تعاون، خطے میں استحکام کے لیے کردار اور سفارتی اعتماد سازی نے واشنگٹن میں پاکستان کی پوزیشن کو مضبوط کیا۔ اس کے برعکس، امریکا اور بھارت کے تعلقات میں تجارتی اور پالیسی سطح پر تناؤ دیکھنے میں آیا، جس نے خطے کی سفارتی حرکیات کو نئی سمت دی۔
پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے مربوط سفارت کاری کے ذریعے نہ صرف دفاعی محاذ پر برتری قائم رکھی بلکہ عالمی شراکت داروں کے ساتھ نئے امکانات بھی پیدا کیے۔ معیشت، معدنی وسائل، ٹیکنالوجی اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کو خارجہ پالیسی کا حصہ بنا کر پاکستان نے خود کو ایک ذمہ دار اور فائدہ مند شراکت دار کے طور پر پیش کیا۔
علاقائی سطح پر بھی پاکستان نے مصالحت اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں ہوں یا مسلم دنیا کے اندر سفارتی روابط، پاکستان کا کردار تعمیری رہا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران جیسے اہم ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان علاقائی امن میں سنجیدہ دلچسپی رکھتا ہے۔
2025 میں حاصل ہونے والی سفارتی اور دفاعی کامیابیاں پاکستان کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ اگر یہی دانش مندانہ حکمتِ عملی برقرار رکھی گئی تو 2026 میں پاکستان نہ صرف اپنی سفارتی کامیابیوں کو مزید وسعت دے سکتا ہے بلکہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مؤثر اور بھرپور جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

Leave a reply