2025 میں اسمارٹ فونز: طاقتور ضرور، مگر صارف کا جوش کیوں ماند پڑ گیا؟

0
107
2025 میں اسمارٹ فونز: طاقتور ضرور، مگر صارف کا جوش کیوں ماند پڑ گیا؟

ایک وقت تھا جب نیا اسمارٹ فون خریدنا واقعی ایک بڑی تبدیلی محسوس ہوتا تھا۔ بہتر رفتار، شاندار کیمرہ اور نئے فیچرز روزمرہ استعمال میں واضح فرق پیدا کرتے تھے۔ مگر 2025 میں آ کر یہ احساس خاصا کمزور پڑ چکا ہے۔
اگرچہ حالیہ برس میں اسمارٹ فونز میں بڑی بیٹریاں، جدید پروسیسرز، خوبصورت ڈسپلے اور مصنوعی ذہانت پر مبنی فیچرز متعارف کرائے گئے، لیکن عام صارف کے لیے عملی استعمال میں نمایاں فرق محسوس نہیں ہوا۔ فون دیکھنے میں تو نئے لگتے ہیں، مگر استعمال کا تجربہ زیادہ مختلف نہیں۔
2025 کے دوران زیادہ تر اسمارٹ فونز ایک جیسے ڈیزائن اور ملتے جلتے فیچرز کے ساتھ پیش کیے گئے۔ اعداد و شمار اور تکنیکی دعوے متاثر کن ضرور تھے، مگر اصل سوال یہ رہا کہ کیا ان تبدیلیوں سے صارف کی روزمرہ زندگی واقعی آسان ہوئی؟
ماہرین کے مطابق اسمارٹ فون انڈسٹری میں جدت کی رفتار سست ہو چکی ہے۔ کمپنیاں اسپیکس اور اشتہارات پر توجہ دے رہی ہیں، لیکن صارف کے حقیقی مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں۔
مثال کے طور پر مختلف پلیٹ فارمز کے درمیان فائل شیئرنگ اب بھی ایک مسئلہ ہے۔ تصاویر اور ویڈیوز کا معیار متاثر ہو جاتا ہے، اور صارفین کو اب بھی اضافی ایپس یا کلاؤڈ سروسز کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ 2026 قریب ہونے کے باوجود آئی فون اور اینڈرائیڈ کے درمیان ہموار رابطہ ایک خواب ہی لگتا ہے۔
اسی طرح ایک پلیٹ فارم سے دوسرے پلیٹ فارم پر منتقل ہونا عام صارف کے لیے آج بھی مشکل عمل ہے۔ ڈیٹا، ایپس اور سیٹنگز کی منتقلی ذہنی دباؤ اور الجھن کا باعث بنتی ہے، جس پر کم ہی توجہ دی جاتی ہے۔
بیٹری لائف بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ جدید فیچرز، 5G، ہائی ریفریش ریٹ اسکرینز اور بیک گراؤنڈ میں چلنے والی سروسز بیٹری کو تیزی سے ختم کر دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں مہنگے فون بھی پورا دن نکالنے میں ناکام رہتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ فلیگ شپ فونز کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، مگر اس کے باوجود چارجر جیسی بنیادی چیز اکثر باکس میں شامل نہیں ہوتی۔ ماحول دوستی کا جواز پیش کیا جاتا ہے، لیکن صارفین کا ماننا ہے کہ اصل مسئلہ فونز کی محدود عمر اور مہنگی مرمت ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ فون کی کارکردگی میں کمی بھی عام مسئلہ بن چکی ہے۔ ایک یا دو سال بعد ایپس سست ہو جاتی ہیں، اینیمیشنز ہموار نہیں رہتیں اور مجموعی تجربہ متاثر ہوتا ہے، چاہے سافٹ ویئر اپڈیٹس کا وعدہ موجود ہو۔
مرمت کے اخراجات بھی صارفین کو نئے فون کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ اسکرین، بیٹری یا کیمرے کی مرمت اتنی مہنگی ہوتی ہے کہ پرانا فون ٹھیک کروانے کے بجائے نیا لینا آسان لگتا ہے۔
مجموعی طور پر فونز پہلے سے زیادہ پتلے ہو گئے ہیں، مگر کیمرے ابھرے ہوئے اور ڈیزائن ایک جیسے نظر آتے ہیں۔ اے آئی فیچرز دلچسپ تو ہیں، لیکن عام زندگی میں ان کا فائدہ محدود محسوس ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے سال میں اسمارٹ فون انڈسٹری کو کسی بڑے انقلاب کے بجائے عملی اور صارف دوست بہتری پر توجہ دینا ہوگی۔ اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب ترقی کا معیار نمبرز نہیں، بلکہ صارف کا روزمرہ تجربہ بنایا جائے۔

Leave a reply