آرڈیننس معطلی کے بعد قبضہ دلوایا گیا تو نتائج بھگتنا ہوں گے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

0
70
آرڈیننس معطلی کے بعد قبضہ دلوایا گیا تو نتائج بھگتنا ہوں گے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ نے پراپرٹی اونر شپ ایکٹ کے تحت ہونے والی کارروائیوں پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے ڈی آر سی کمیٹی کے ذریعے دیا گیا قبضہ فوری واپس کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے متعلقہ کمیٹی کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا جبکہ تمام زیرِ سماعت درخواستیں فل بینچ کو منتقل کر دی گئیں۔
جمعے کے روز چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے محمد علی، محمد اسلم سمیت دیگر شہریوں کی دائر کردہ درخواستوں پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران وہ شہری بھی عدالت میں پیش ہوا جسے ڈی آر سی کمیٹی کے ذریعے جائیداد کا قبضہ دیا گیا تھا۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ متنازع قبضہ فوری طور پر واپس کیا جائے۔
عدالت میں گفتگو کے دوران چیف جسٹس نے قبضہ حاصل کرنے والے فریق کے وکیل سے استفسار کیا کہ وہ ایسے فیصلے کا دفاع کس بنیاد پر کر رہے ہیں جو قانونی اختیار سے تجاوز کے زمرے میں آتا ہے۔ وکیل نے تسلیم کیا کہ ڈپٹی کمشنرز کے تحت قائم ڈی آر سی کمیٹیوں نے اپنے اختیارات سے بڑھ کر فیصلے کیے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قبضہ واپس کیے بغیر کسی مزید کارروائی پر غور نہیں کیا جائے گا اور کہا کہ متعلقہ کمیٹی ممبران کے خلاف کارروائی پر بھی غور ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نظام کو نظر انداز کیا جائے گا تو ایسے مسائل جنم لیں گے۔
سماعت کے دوران جب وکیل نے عدالتی نظام سے مایوسی کا اظہار کیا تو چیف جسٹس نے سخت لہجے میں کہا کہ عدالت میں غیر ضروری بیانات نہ دیے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ زیر التوا مقدمات کی صورتحال سے وہ بخوبی آگاہ ہیں اور جذباتی دلائل قابل قبول نہیں۔
درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ دیپالپور میں 40 ایکڑ اراضی پر مخالف فریق قابض ہے، جبکہ دوسری جانب وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈی آر سی کمیٹی نے محض 27 دن میں قبضہ دلوا دیا۔ چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ قبضے کا حکم جاری کرنے کا اختیار کس کے پاس تھا اور ایسے احکامات کو مس کنڈکٹ قرار دیا۔
عدالت کو مزید بتایا گیا کہ آرڈیننس معطل ہونے کے باوجود 24 دسمبر کو گوجرانوالہ میں ایک ایکڑ اراضی کا قبضہ دیا گیا، جس پر چیف جسٹس نے واضح الفاظ میں کہا کہ عدالتی احکامات کے بعد اگر کسی نے قبضہ دلوایا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
آخر میں لاہور ہائیکورٹ نے ڈی آر سی کمیٹی کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے تمام درخواستیں فل بینچ کو بھجوا دیں تاکہ معاملے کا جامع اور حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔

Leave a reply