روزانہ واک کے باوجود وزن کم نہیں ہو رہا؟ وجہ اور حل جان لیں

0
154
روزانہ واک کے باوجود وزن کم نہیں ہو رہا؟ وجہ اور حل جان لیں

اکثر لوگ روزانہ واک کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود وزن میں واضح کمی نظر نہیں آتی۔ ماہرین کے مطابق اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ واک بے فائدہ ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ جسم کو چربی جلانے کے لیے مطلوبہ مقدار میں حرکت نہیں مل پا رہی۔
فٹنس ماہرین کا کہنا ہے کہ جسم میں جمع ایک کلو چربی تقریباً 7,700 کیلوریز پر مشتمل ہوتی ہے، اور چونکہ یہ توانائی ذخیرہ شدہ ہوتی ہے، اس لیے اسے ختم ہونے میں وقت لگتا ہے۔ اصل چربی کا کم ہونا ایک آہستہ مگر مستقل عمل ہے، جو وقتی وزن میں کمی جیسے پانی کی کمی سے مختلف ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق واک کے دوران جسم ہر قدم پر توانائی استعمال کرتا ہے۔ اندازوں کے مطابق ایک ہزار قدم چلنے سے تقریباً 50 سے 70 کیلوریز جلتی ہیں۔ اس حساب سے صرف واک کے ذریعے ایک کلو چربی کم کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ لاکھ قدم درکار ہوتے ہیں۔
اگر کوئی فرد روزانہ 10 ہزار سے 15 ہزار قدم مستقل طور پر چلتا رہے تو وہ تقریباً 10 سے 12 دن میں ایک کلو چربی کم کر سکتا ہے، اور اس کے لیے نہ سخت ورزش کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی بھوکا رہنے کی۔
فٹنس ماہرین کا کہنا ہے کہ واک کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ جسم پر زیادہ دباؤ نہیں ڈالتی، بھوک میں غیر معمولی اضافہ نہیں کرتی اور ہارمونز کے توازن کو بھی متاثر نہیں کرتی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ذہنی دباؤ کم کرنے اور دل کی صحت بہتر بنانے میں بھی مدد دیتی ہے۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ وزن کم کرنا کسی ایک دن کا کام نہیں بلکہ روزانہ کی عادت، مناسب آرام اور متوازن طرزِ زندگی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ مستقل مزاجی ہی اصل کامیابی کی کنجی ہے۔
ان کے مطابق اگر روزانہ کے قدموں کو کیلوریز جلانے کے عمل کے طور پر دیکھا جائے تو آہستہ آہستہ مگر پائیدار انداز میں چربی کم کی جا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ وزن میں کمی ایک مسلسل سفر ہے، کوئی فوری جادو نہیں۔ روزانہ واک اس سفر کو محفوظ، آسان اور دیرپا بنا سکتی ہے، جو نہ صرف وزن گھٹانے بلکہ مجموعی صحت اور ذہنی سکون کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔
نوٹ: وزن کم کرنے کا کوئی بھی منصوبہ شروع کرنے سے پہلے اپنی عمر، صحت اور روزمرہ معمولات کو ضرور مدِنظر رکھیں اور کسی ماہرِ صحت سے مشورہ کرنا بہتر ہوتا ہے۔

Leave a reply