پاکستان میں نجکاری: مواقع، چیلنجز اور معاشی حقیقتیں

پاکستان پچھلی چند دہائیوں سے نجکاری کے عمل سے گزر رہا ہے، جس کا مقصد سرکاری اداروں اور اثاثوں کو نجی شعبے کے حوالے کر کے حکومت کے مالی بوجھ کو کم کرنا اور معیشت میں فعالیت پیدا کرنا ہے۔ نجکاری کا آغاز 1990 کی دہائی میں عالمی مالیاتی اداروں کے مشورے اور مارکیٹ کی معیشت کے تقاضوں کے تحت کیا گیا۔ اس دور میں پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتیں، مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی، مختلف اقتصادی نظریات رکھتی تھیں۔ مسلم لیگ سرمایہ دارانہ نظام کی حامی رہی اور کاروباری طبقات کی نمائندگی کرتی رہی، جبکہ پیپلزپارٹی نے زیادہ تر مزدوروں اور سرکاری شعبے کے تحفظ کے حق میں موقف اپنایا۔ اس پس منظر میں پاکستان میں پی آئی اے، پاکستان ریلویز اور دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری کی کوششیں سامنے آئیں، جو موجودہ مالی حالات کے تحت حکومت کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہیں۔
پاکستان نے دورِ جدید میں تین بڑے اقتصادی نظام دیکھے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام جس کی بنیاد آدم سمتھ کی کتاب “اقوام دولت کی تحقیق” میں رکھی گئی، امریکہ اور مغربی یورپ میں رائج ہے۔ اس میں نجی شعبے کو مکمل آزادی حاصل ہوتی ہے، منڈی کی قوتیں قیمتیں اور معاوضے طے کرتی ہیں اور نفع خوری و مسابقت سے کاروبار کی رفتار بڑھتی ہے۔ اسی نظام کی بدولت امریکہ آج دنیا کی سپریم پاور مانا جاتا ہے۔ اشتراکی نظام کی بنیاد کارل مارکس اور فریڈرک اینجلر کے نظریات پر ہے، جس میں ریاست کا کنٹرول زیادہ ہوتا ہے اور فرد کی اقتصادی آزادی محدود ہوتی ہے۔ سوویت یونین نے اس نظام کو عملی شکل دی، جو آٹھ دہائیوں تک عالمی سطح پر اہم رہا، تاہم 1990 کی دہائی میں اس کا زوال ہوا۔ اس کے برعکس چین نے اشتراکی بنیادوں پر اقتصادی ترقی کے نئے ماڈل کو اپنایا، جہاں ریاست کی رہنمائی کے تحت بڑے کارپوریشنز اور کاروبار فعال ہیں اور ملک عالمی سطح پر فیصلہ کن اقتصادی طاقت بن رہا ہے۔ مخلوط معیشت میں نجی اور سرکاری شعبے دونوں فعال رہتے ہیں، جیسے بھارت کی مثال ہے، جس میں دونوں شعبے کے اشتراک سے مضبوط اقتصادی نتائج سامنے آتے ہیں۔ پاکستان میں مخلوط معیشت کی کوششیں زیادہ کامیاب نہیں ہو سکیں کیونکہ نہ تو نجی شعبے کو مناسب مواقع ملے اور نہ ہی سرکاری شعبہ خود کوئی قابل تقلید مثال قائم کر سکا۔
نجکاری کے ممکنہ فوائد میں سرکاری مالی بوجھ میں کمی، اداروں کی کارکردگی میں اضافہ اور نجی شعبے کی آزادی کے تحت بہتر خدمات شامل ہیں۔ تاہم، خطرات بھی کم نہیں، جن میں عوام کی شمولیت اور شفافیت کا فقدان، نجی شعبے میں مفاد پرستی، اور عوامی اثاثوں کی غیر منصفانہ فروخت شامل ہیں۔ حکومت کے پاس نجکاری کے حق میں دلائل موجود ہیں، لیکن عوام کو اس کے حقیقی اثرات کے بارے میں شواہد بہت محدود دستیاب ہیں۔
پاکستان کی معیشت کے لیے ضروری ہے کہ نجکاری صرف مالی بوجھ کم کرنے کے لیے نہ ہو بلکہ ملکی ترقی اور عوامی بھلائی کے ساتھ جڑی ہو۔ اگر شفافیت، شراکت داری اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھا جائے تو نجکاری کے نتائج مثبت ہو سکتے ہیں۔ پاکستان میں سرکاری شعبے کی پرانی مضبوطی، جیسا کہ پی آئی اے، پاکستان ریلویز اور تعلیمی ادارے، اب محدود یا ناکافی ہو گئی ہے، اور حکومت کو ان کو زندہ رکھنے کے لیے اربوں روپے خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔ اس پس منظر میں نجکاری کے ذریعے مالی دباؤ کم کرنے کی کوششیں سمجھ میں آتی ہیں، لیکن اس کے اثرات اور ممکنہ مسائل کا جائزہ لینا بھی لازمی ہے۔








