پاکستان کی سیاست اور مائنس ون کی دھند

پاکستان کی سیاست اور مائنس ون کی دھند

تحریر:حماد

بظاہر سیاست میں سب کچھ پرسکون دکھائی دیتا ہے، حکومت کوئی سنگین بحران نہیں دیکھتی، اور تجزیہ نگار بھی معمول کے حالات بیان کر رہے ہیں۔ لیکن اگر تھوڑی دیر کے لیے سیاست کے سینے سے کان لگایا جائے تو ہلچل محسوس ہوتی ہے، ہنڈیا میں کچھ پک رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ کیا پک رہا ہے؟
ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی طاقتور شخصیت کو سیاسی منظر سے ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے، سطح پر سکون کا تاثر قائم رہتا ہے، لیکن اندرونی طور پر اضطراب بڑھتا ہے۔ یہ اندرونی ہلچل کبھی زیادہ دکھائی نہیں دیتی، مگر سموگ کی طرح سب کچھ دھندلا ہو جاتا ہے۔ ایسا ہم نے ماضی میں کئی بار دیکھا ہے—جب کوئی سابق وزیراعظم یا سیاستدان جیل میں گیا، یا کسی کے خلاف قانونی کارروائی شروع ہوئی، تب بھی بظاہر سب کچھ ٹھیک چلتا رہا۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ جمہوریت کی جڑیں زمین میں مضبوط نہیں ہوتیں، بلکہ ’’بندوبست‘‘ کے گملوں میں اُگتی ہیں، اور وہ گملے ٹوٹتے بھی رہتے ہیں۔
ماضی کی مثالیں واضح کرتی ہیں کہ مائنس ون کی حکمت عملی صرف وقتی سکون پیدا کرتی ہے، مگر نظام کے اندر بے چینی برقرار رہتی ہے۔ جب عوام کو سیاسی عمل میں شراکت داری کا احساس نہ رہے، تو مائنس ون کی کوششیں کم اثر رکھتی ہیں اور ملکی وقت ضائع ہوتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ بار بار دیکھا گیا ہے: ہر بار الیکشن ہوئے، جذباتی ووٹنگ ہوئی، اور نتیجہ وہی رہا—ملک آگے بڑھنے کے بجائے ایک جگہ کھڑا رہا۔
موجودہ صورتحال میں بات چیت اور مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مسئلہ کسی ایک شخص کا نہیں، بلکہ سیاسی استحکام کا ہے۔ تمام فریق—حکومت اور اپوزیشن—اس کشتی میں سوار ہیں۔ اگر مذاکرات سنجیدگی سے کیے جائیں، تو درزیں کھل سکتی ہیں اور سیاسی بحران سے نکلنے کا راستہ پیدا ہو سکتا ہے۔
اس معاملے میں سینئر سیاستدانوں کا کردار بھی اہم ہے۔ تجربہ کار اور معزز رہنما اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے مختلف پارٹیوں اور گروہوں کو ایک میز پر لا سکتے ہیں۔ ماضی کی مثالیں واضح کرتی ہیں کہ اعلیٰ ظرفی اور جمہوری سوچ کے ذریعے ہی بحرانوں کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ یہی راستہ ملک کے استحکام اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے مفید ثابت ہوگا۔
سیاستدانوں کو یہ بات یاد رکھنی ہوگی کہ کبھی بھی وقتی فائدے کے لیے نظام کو نقصان پہنچانا ملک کے لیے مہنگا پڑتا ہے۔ مذاکرات، بردباری اور جمہوری رویہ ہی وہ راستے ہیں جو پاکستان کو اس کی اصل منزل تک لے جا سکتے ہیں۔

Leave a reply