طاقتور فائدے میں، قومی خزانہ نقصان میں

پاکستان میں دسمبر محض کیلنڈر کا ایک مہینہ نہیں بلکہ سرکاری مشینری کے لیے حساب کتاب، اہداف پورے کرنے اور کارکردگی دکھانے کا وقت ہوتا ہے۔ اس مہینے میں فائلیں تیزی سے نمٹائی جاتی ہیں، ریونیو کے ہندسے بہتر دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ معیشت درست سمت میں جا رہی ہے۔ مگر اسی دسمبر میں کراچی کی بندرگاہوں پر کھڑے ہزاروں کنٹینرز ایک ایسی کہانی سنا رہے ہیں جو سرکاری دعوؤں کی نفی کرتی ہے۔
سولر پینلز سے بھرے یہ کنٹینرز کئی برسوں سے بندرگاہوں پر پڑے ہیں۔ نہ انہیں کلیئر کیا جا رہا ہے، نہ نیلام کیا جا رہا ہے اور نہ ہی کسی حتمی فیصلے تک پہنچا جا رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جو سامان کبھی قیمتی اثاثہ تھا، وہ اب آہستہ آہستہ اپنی قدر کھوتا جا رہا ہے۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں ہر چند ماہ بعد نئی اور بہتر مصنوعات مارکیٹ میں آ جاتی ہیں، وہاں پرانے سولر پینلز کی افادیت تیزی سے کم ہو جاتی ہے۔ یہ محض تاخیر نہیں بلکہ قومی وسائل کا کھلا ضیاع ہے۔
مسئلہ اس وقت سنگین ہوا جب سولر درآمدات کو منی لانڈرنگ کے الزامات سے جوڑ دیا گیا۔ مقدمات، نوٹسز اور تحقیقات کا سلسلہ شروع ہوا، مگر فیصلے کہیں گم ہو گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کنٹینرز بندرگاہوں پر ہی رہ گئے۔ اگر یہی سامان بروقت نیلام ہو جاتا تو قومی خزانے کو بھاری آمدن حاصل ہو سکتی تھی، مگر آج ان کی قیمت آدھی سے بھی کم ہو چکی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید گر رہی ہے۔
اس تاخیر کا ایک پہلو بندرگاہوں پر لگنے والے ڈیمرج اور ڈیٹینشن چارجز ہیں۔ جتنا زیادہ وقت کنٹینرز کھڑے رہتے ہیں، اتنے ہی زیادہ اخراجات بڑھتے جاتے ہیں۔ یہ اخراجات یا تو درآمد کنندہ پر پڑتے ہیں یا پھر نیلامی کی صورت میں سرکاری آمدن کو کم کر دیتے ہیں۔ یوں ایک طرف ریونیو ضائع ہو رہا ہے اور دوسری طرف قومی خزانے پر اضافی بوجھ بڑھ رہا ہے، جس کا بالآخر اثر عام شہری پر پڑتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس معاملے میں ادارے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں۔ کسٹمز اور پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کے درمیان یہ واضح نہیں کہ حتمی فیصلہ کس نے کرنا ہے۔ ایک ادارہ دوسرے کی منظوری کا انتظار کر رہا ہے اور دوسرا خود کو اس ذمہ داری سے الگ سمجھتا ہے۔ اس ادارہ جاتی کشمکش میں قومی مفاد کہیں پس منظر میں چلا گیا ہے۔
یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر قواعد کے مطابق نیلامی میں حکومت کو بڑا حصہ ملتا ہے تو پھر تاخیر کیوں؟ اگر قانونی معاملات زیرِ سماعت ہیں تو قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنے دیا جائے، مگر اس بنیاد پر پورے نظام کو جامد کر دینا کس کے فائدے میں ہے؟ اس تاخیر نے نہ صرف کاروباری طبقے کا اعتماد متزلزل کیا ہے بلکہ سرمایہ کاری کے ماحول کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
سولر توانائی پاکستان کے لیے ایک امید تھی۔ سستی بجلی، قومی گرڈ پر کم دباؤ اور عوام کے لیے ریلیف — یہ سب اس شعبے سے ممکن تھا۔ مگر بدانتظامی اور فیصلہ سازی کی کمی نے اس راستے کو بھی مشکل بنا دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ متبادل توانائی کمزور ہو رہی ہے اور مہنگا نظام مزید مضبوط۔
یہ معاملہ صرف سولر کنٹینرز کا نہیں بلکہ طرزِ حکمرانی کا آئینہ ہے۔ جب فیصلے بروقت نہ ہوں، ذمہ داری طے نہ کی جائے اور قومی مفاد پر ذاتی یا گروہی مفادات غالب آ جائیں تو نقصان ہمیشہ ریاست اور عوام کا ہوتا ہے۔ بندرگاہوں پر کھڑا یہ سامان دراصل ایک سوال ہے — کیا ہم قومی وسائل کو سنبھالنے کے اہل ہیں یا نہیں؟
اگر اب بھی واضح اور فوری فیصلے نہ کیے گئے تو یہ کنٹینرز محض زنگ آلود دھات بن جائیں گے، اور ان کے ساتھ ساتھ عوام کا اعتماد بھی مزید ٹوٹ جائے گا۔ ریاست کے لیے اصل امتحان یہی ہے کہ وہ دعووں سے نکل کر عمل کی طرف کب آتی ہے۔









