بھارت کی عالمی رسوائی اور سچائی کے سامنے بے بسی

حالیہ دنوں میں آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں پیش آنے والا فائرنگ کا واقعہ نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر نفرت اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کا بھی ایک مثال بن گیا ہے۔ اس سانحے میں 16 افراد اپنی جان سے گئے، اور متعدد زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر واضح کر دیتا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب، قوم یا نسل نہیں ہوتی۔ تاہم افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہر بڑے دہشت گردانہ حملے کے بعد بعض میڈیا اور سوشل میڈیا نیٹ ورکس بغیر تحقیق کے مخصوص ممالک یا کمیونٹیز کو نشانہ بناتے ہیں۔
سڈنی حملے کے فوراً بعد کچھ حلقوں نے پاکستان کو اس واقعے سے جوڑنے کی کوشش کی، حالانکہ تحقیقات نے حقیقت واضح کر دی۔ نیو ساؤتھ ویلز پولیس اور آسٹریلوی حکام نے تصدیق کی کہ حملہ آور بھارتی نژاد تھے۔ نوید اکرم اور ساجد اکرم کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ نوید اکرم کی والدہ اٹلی اور والد بھارت سے تعلق رکھتے تھے، اور وہ کسی بین الاقوامی دہشت گرد نیٹ ورک کا حصہ نہیں تھے۔ آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے بھی اس واقعے کو دہشت گردی قرار دیا، مگر واضح کیا کہ یہ کوئی منظم بین الاقوامی سازش نہیں تھی۔
اس سانحے میں ایک روشن پہلو بھی سامنے آیا۔ شامی نژاد مسلمان شہری احمد الاحمد نے نہ صرف اپنے جان کا خطرہ مول لیا بلکہ حملہ آور کو قابو میں لا کر درجنوں جانیں بچائیں۔ احمد الاحمد کی بہادری نے یہ ثابت کیا کہ انسانیت اور جرأت کسی مذہب یا قوم کی محتاج نہیں۔ عالمی سطح پر ان کے کردار کی تعریف کی گئی، اور ان کی مدد کے لیے فنڈ ریزنگ مہم بھی شروع کی گئی، جس میں لاکھوں ڈالر جمع ہوئے۔
سڈنی حملے کے بعد پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش ایک منصوبہ بند پروپیگنڈا تھی، جس کا مقصد حقیقت سے توجہ ہٹانا اور عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان خود دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار رہا ہے، اور اس کے خلاف بھارت اور افغانستان میں سرگرم نیٹ ورکس کے شواہد عالمی سطح پر موجود ہیں۔ ایسے میں جھوٹے الزامات اور تعصب پر مبنی بیانیے نہ صرف نقصان دہ ہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔
اس واقعے نے عالمی میڈیا اور ریاستی بیانیوں کی ذمہ داری کو بھی اجاگر کیا۔ سچائی اور شفافیت پر مبنی رپورٹنگ کے بغیر دنیا میں غلط فہمیاں پھیلتی ہیں اور ایک مکمل قوم یا مذہب کو غلط طور پر مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ سڈنی حملے کے بعد بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف چلائی گئی مہم ایک ایسی مثال ہے، جس نے عالمی سطح پر اس بات کی ضرورت کو واضح کیا کہ میڈیا کو شواہد پر مبنی رپورٹنگ پر زور دینا چاہیے۔
عالمی سیاست میں بھی یہ واقعہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ داخلی اور خارجی پالیسی کے توازن کی کمی کس طرح ایک ملک کی ساکھ متاثر کر سکتی ہے۔ بھارت میں مودی حکومت کی داخلی پالیسیوں نے سماجی تقسیم کو بڑھایا، جس سے اقلیتوں اور اکثریت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ یہ داخلی انتشار اب بیرونی دنیا میں بھارت کے لیے ساکھ کے نقصان کا سبب بن رہا ہے۔ بین الاقوامی محاذ پر بھارت کو اپنی پالیسیوں کی وجہ سے کئی مرتبہ رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہے، اور سچائی پر مبنی رپورٹنگ نے عالمی سطح پر غلط بیانیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔
سڈنی کا واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، اور ہر واقعے کے بعد پھیلنے والا جھوٹ اور پروپیگنڈا اتنا ہی خطرناک ہو سکتا ہے جتنا اصل حملہ۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہم حقائق پر مبنی معلومات کو ترجیح دیں، غلط بیانی اور تعصب سے بچیں، اور بہادری و انسانیت کی حقیقی کہانیوں کو اجاگر کریں۔ احمد الاحمد جیسے افراد ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ جرأت، انسانیت اور مذہبی ہم آہنگی کی اقدار ہمیشہ روشنی کی علامت رہتی ہیں، اور یہی حقیقی پیغام دنیا تک پہنچانا چاہیے۔









