
ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کے میدان میں مقابلہ تیز ہو چکا ہے اور اب فیس بک کی پیرنٹ کمپنی، میٹا، دوبارہ اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق میٹا دو جدید اے آئی ماڈلز، ’مینگو‘ اور ’ایووکاڈو‘، پر کام کر رہی ہے، جنہیں کمپنی 2026 کے پہلے نصف میں لانچ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
’مینگو‘ ماڈل تخلیقی مواد، بشمول تصاویر اور ویڈیوز بنانے میں مہارت رکھے گا، تاکہ یہ اوپن اے آئی اور گوگل کے ویژول ماڈلز کے مقابلے میں اپنی جگہ بنا سکے۔ دوسری جانب، ’ایووکاڈو‘ لینگویج ماڈل کی شکل میں سامنے آئے گا جو نہ صرف تحریر بلکہ کوڈنگ اور منطقی مسائل حل کرنے میں بھی بہترین ہوگا۔ کمپنی کے اندرونی ذرائع کے مطابق، ایووکاڈو میٹا کا اب تک کا سب سے جدید لینگویج ماڈل ہوگا، جو دنیا کو سمجھنے کی صلاحیت رکھنے والے ’ورلڈ ماڈلز‘ کے تصور پر مبنی ہے۔
یہ منصوبے میٹا کے چیف اے آئی آفیسر، الیگزینڈر وانگ کی قیادت میں ہیں، جو اسکیل اے آئی کے بانی بھی ہیں۔ میٹا نے حال ہی میں وانگ کی کمپنی میں سرمایہ کاری کی اور انہیں نئی قائم کردہ ’میٹا سپر انٹیلیجنس لیبز‘ کی قیادت سونپی، جس کا مقصد تحقیق اور ترقی کے عمل کو تیز کرنا اور کمپنی کو اے آئی کے میدان میں سبقت دلانا ہے۔
میٹا نے 2025 میں اپنی اے آئی ٹیموں کو دوبارہ منظم کیا اور دنیا بھر سے سینکڑوں سائنس دان اور انجینیئرز، بشمول اوپن اے آئی کے سابق ماہرین، کو ٹیم میں شامل کیا۔ یہ تمام اقدامات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب گوگل کے جیمینائی ماڈلز اور اوپن اے آئی کے ٹولز مارکیٹ میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔
میٹا ’مینگو‘ اور ’ایووکاڈو‘ کے ذریعے نہ صرف تخلیقی اور تکنیکی میدان میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتی ہے بلکہ یہ پیغام بھی دینا چاہتی ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں واپس پوری قوت کے ساتھ آئی ہے۔ اگر یہ منصوبے کامیاب ہوئے، تو 2026 اے آئی کے شعبے میں ایک اہم سال ثابت ہو سکتا ہے، جہاں مقابلہ صرف ٹیکنالوجی تک محدود نہیں بلکہ وژن، تخلیقی سوچ اور فہم کا بھی ہوگا۔








