عثمان ہادی قتل: مظاہرین نے عوامی لیگ و میڈیا دفاتر کو نذر آتش کیا

بنگلا دیش کے مختلف شہروں میں نوجوان رہنما شریف عثمان ہادی کی ہلاکت کے بعد شدید احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ مظاہرین نے دارالحکومت ڈھاکا میں سڑکیں بلاک کر دیں اور عوامی لیگ اور میڈیا کے دفاتر کو آگ لگا دی، جبکہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
احتجاج کرنے والوں نے عثمان ہادی کے حق میں نعرے لگائے اور ان کے قتل کے ذمہ داروں کے فوری انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ راجشاہی میں مظاہرین نے سابق رہنما شیخ مجیب الرحمان کی رہائش گاہ کو بھی نذر آتش کرنے کی کوشش کی۔
عثمان ہادی جولائی میں حسینہ واجد حکومت کے خلاف طلبہ تحریک کے اہم رہنما اور سیاسی پلیٹ فارم “انقلاب منچہ” کے ترجمان تھے۔ انہیں گذشتہ جمعے کو ڈھاکا میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے زخمی کیا تھا۔ بعد ازاں وہ سنگاپور منتقل کیے گئے جہاں دوران علاج وہ انتقال کر گئے۔
تفتیشی حکام کے مطابق حملہ آور غیر قانونی طور پر بھارت کی سرحد عبور کر کے فرار ہوئے۔ مشتبہ قاتل کی شناخت فیصل کریم مسعود اور موٹرسائیکل ڈرائیور عالمگیر شیخ کے طور پر ہوئی ہے۔ اب تک 14 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں فیصل کے والد، والدہ، بیوی اور بھائی شامل ہیں، اور ان سے تحقیقات جاری ہیں۔
حکام نے مظاہروں کے پیش نظر ملک کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی سخت کر دی ہے۔









