
راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر منگل کی رات اُس وقت صورتحال بگڑ گئی جب پولیس نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر دھرنا دینے والی اُن کی بہنوں—علیمہ خان، نورین خان اور عظمیٰ خان—کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا۔ کارروائی کے دوران متعدد کارکنوں کو حراست میں لیا گیا جبکہ اراکین اسمبلی سمیت کئی افراد زخمی ہوئے۔
عمران خان کی بہنیں کارکنوں کے ہمراہ فیکٹری ناکے کے قریب پانچ گھنٹے سے زائد دھرنا دیتی رہیں۔ طویل احتجاج کے باعث علاقے کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی، دفاتر اور دکانیں بند رہیں جبکہ تعلیمی ادارے بھی نہ کھل سکے۔ پولیس نے دفعہ 144 کے تحت مختلف مقامات پر چیک پوسٹیں قائم کردیں اور واٹر کینن سمیت بھاری نفری تعینات کی۔
پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر بھی کارکنوں میں شامل ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک مزید کشیدگی برداشت نہیں کرسکتا اور مسائل کا حل ہمیشہ نظام کے اندر رہ کر نکالا جانا چاہیے۔
رات گئے پولیس نے دھرنا ختم کرانے کے لیے آپریشن شروع کیا۔ کارکنوں کے پتھراؤ کے جواب میں پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کیا اور متعدد افراد کو گرفتار کرلیا۔ اس دوران رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک شدید زخمی ہوئے اور ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ اسی ہنگامہ آرائی میں فرزانہ سعید ایک گہرے نالے میں گر کر زخمی ہوگئیں جبکہ دیگر کارکن بھی بھگدڑ کے باعث متاثر ہوئے۔
پی ٹی آئی کے وکیل نعیم حیدر پنجوتھہ نے کارروائی کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔
دوسری جانب اڈیالہ جیل میں پمز اسپتال کے ڈاکٹروں کی ٹیم نے عمران خان کا طبی معائنہ کیا اور رپورٹ تیار کرنے کا عمل شروع کردیا۔ اسی روز پنجاب اسمبلی نے عمران خان پر پابندی سے متعلق قرارداد بھی کثرتِ رائے سے منظور کی۔
آپریشن کے باوجود اڈیالہ جیل کے اطراف سیکیورٹی بدستور سخت ہے اور حالات مکمل طور پر معمول پر نہیں آسکے۔









