امریکا کے نئے ویزا ضوابط پر بھارت میں تشویش کی لہر

0
116
امریکا کے نئے ویزا ضوابط پر بھارت میں تشویش کی لہر

امریکا کی جانب سے ایچ ون بی اور ایچ 4 ویزا رکھنے یا ان کی تجدید کرانے والوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو لازمی طور پر عوامی کرنے کی نئی شرط نے بھارت میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ یہ ضابطہ 15 دسمبر سے نافذ کیا جارہا ہے اور بھارت کی بڑی آئی ٹی برادری اس تبدیلی سے زیادہ متاثر نظر آرہی ہے۔

نئے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ قوانین کے مطابق، ایچ ون بی ویزا درخواست گزاروں اور ان کے ایچ 4 ڈیپنڈنٹس کو ویزا پراسیسنگ کے دوران اپنے سوشل میڈیا پروفائلز افسران کے لیے کھلے رکھنے ہوں گے، تاکہ ان کی آن لائن سرگرمیوں کا جائزہ لیا جاسکے۔ یہ تقاضا نئی درخواستوں کے ساتھ ساتھ تجدید پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوگا۔

چونکہ دنیا بھر میں ایچ ون بی ویزا ہولڈرز میں سب سے زیادہ تعداد بھارتی شہریوں کی ہے، اس لیے اس نئی شرط نے بھارتی آئی ٹی پروفیشنلز، ان کے خاندانوں اور ملازمتوں پر انحصار کرنے والے ہزاروں افراد میں بے یقینی بڑھا دی ہے۔ بیشتر افراد اپنی ملازمت، رہائش، بچوں کی تعلیم اور مالی ذمہ داریوں کے لیے اسی ویزا پر انحصار کرتے ہیں۔

امیگریشن ماہرین کا کہنا ہے کہ اب ویزا افسران درخواست گزاروں کے ایکس، انسٹاگرام، لنکڈ اِن اور دیگر پلیٹ فارمز پر موجود مواد کا جائزہ لے سکیں گے۔ ماہرین کے مطابق، پرانی پوسٹس، سیاسی رائے یا پروفائل میں درج چھوٹی سی غلطی بھی اضافی اسکریننگ کا باعث بن سکتی ہے۔

آئی ٹی کمپنیوں نے ملازمین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے اکاؤنٹس کا ازسرِ نو جائزہ لیں، غیر ضروری سیاسی یا حساس مواد شیئر کرنے سے گریز کریں اور ویزا سے متعلقہ کاغذات میں صرف پیشہ ورانہ ای میل پتے استعمال کریں۔

اس دوران، بھارت میں ویزا اپوائنٹمنٹس بھی متاثر ہوئی ہیں۔ مختلف شہروں، خصوصاً حیدرآباد اور چنئی میں، انٹرویو شیڈول اچانک تبدیل یا منسوخ کر دیے گئے، جبکہ کئی سلاٹس کو دسمبر سے بڑھا کر مارچ 2026 تک منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس تاخیر کے باعث نئے ملازمین کی جوائننگ رک گئی، کچھ خاندان بیرونِ ملک پھنس گئے اور متعدد افراد مختصر دوروں کے بعد بھی امریکا واپس نہ جاسکے۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق سوشل میڈیا اسکریننگ کا عمل پہلے چند مخصوص ویزا کیٹیگریز میں رائج تھا، اور اب اسے وسیع کیا جارہا ہے تاکہ قومی سلامتی کے تقاضے بہتر طور پر پورے کیے جاسکیں۔ ادارہ کہتا ہے کہ ہر ویزا فیصلہ حفاظتی نقطۂ نظر سے کیا جاتا ہے۔

امریکی سفارتخانے نے بھارتی امیدواروں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ نئی انٹرویو تاریخ کے مطابق آئیں، کیونکہ پرانے شیڈول پر پہنچنے کی صورت میں انہیں سفارتخانے کے باہر روک دیا جائے گا۔

امیگریشن وکیلوں کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی بڑے پیمانے پر اپوائنٹمنٹس کو متاثر کر رہی ہے، اور آنے والے ہفتوں میں مزید کیسز نئی تاریخوں پر منتقل کیے جارہے ہیں۔

نئے قانون نے بھارت میں ہزاروں ویزا امیدواروں کو غیر یقینی اور پریشانی کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے، اور بیشتر افراد مستقبل قریب میں مزید مشکلات سے خائف ہیں۔

Leave a reply