روسی صدر کا دوٹوک پیغام: “اگر یورپ جنگ چاہتا ہے تو روس بھی تیار ہے

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے واضح کیا ہے کہ روس کی یورپ کے ساتھ جنگ کرنے کی کوئی خواہش نہیں، لیکن اگر یورپ ٹکراؤ چاہتا ہے تو روس بھی پوری طرح تیار ہے۔ ماسکو میں امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد و مشیر جیراڈ کشنر سے ملاقات سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روس امن چاہتا ہے، مگر یورپ کی جانب سے تناؤ بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔
پیوٹن کے مطابق یورپی ممالک یوکرین سے متعلق امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور جنگ بندی سے متعلق امریکی امن منصوبے پر پیش رفت نہیں دیکھنا چاہتے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یورپی رہنما پہلے بھی مذاکراتی عمل سے پیچھے ہٹے اور اب ممکنہ معاہدے میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔
امریکی وفد کی روسی قیادت سے ملاقات تقریباً پانچ گھنٹے جاری رہی، جس میں یوکرین جنگ بندی اور امریکی امن تجاویز پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ روسی صدر کے مشیر برائے خارجہ پالیسی یوری اوشاکوف کا کہنا ہے کہ بعض نکات پر اتفاق ہوا ہے جبکہ کچھ پر مزید کام کی ضرورت ہے، تاہم مجموعی طور پر بات چیت مثبت رہی۔
ادھر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھی اعتراف کیا ہے کہ امن منصوبے کے مسودے میں کئی نکات ایسے ہیں جن پر اب بھی مزید غور و فکر ضروری ہے۔









