
سویڈن کے یونیورسٹی اوربرو کے محققین نے دو جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈل تیار کیے ہیں جو دماغ کی برقی سرگرمی کا تجزیہ کر کے صحت مند افراد اور ڈیمنشیا کے مریضوں کی درست شناخت کر سکتے ہیں۔
تحقیق کے دوران یہ ماڈلز دماغ کے سگنلز کی بنیاد پر صحت مند افراد، الزائمر کے مریض اور فرنٹو ٹیمپورل ڈیمنشیا کے شکار افراد کی درجہ بندی میں کافی حد تک درست نتائج دینے میں کامیاب رہے۔
ان میں سے ایک ماڈل خاص طور پر مریض کی نجی معلومات کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے، جس کا سائز صرف ایک میگا بائٹ سے کم ہے۔ اس ماڈل نے تشخیص میں تقریباً ۹۰ فیصد درستگی کا مظاہرہ کیا، جو کہ طبی معیار کے لیے کافی اہم پیش رفت ہے۔
محققین کے مطابق دماغی برقی سرگرمی کی بنیاد پر تشخیص نسبتاً آسان اور کم لاگت ہے، اور یہ ماڈل مستقبل میں نہ صرف کلینکوں اور اسپتالوں بلکہ گھروں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے مریضوں کی ابتدائی تشخیص اور بروقت علاج ممکن ہو گا، جس کے نتیجے میں ان کے معیار زندگی میں بہتری آنے کے امکانات ہیں۔
علاوہ ازیں، محققین اس ٹیکنالوجی کو مزید وسعت دینے، مختلف اقسام کی ڈیمنشیا شامل کرنے اور مریض کی نجی معلومات کی مکمل حفاظت برقرار رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
یہ تحقیق دماغی صحت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہے اور مستقبل میں دماغی امراض کی تشخیص اور علاج کے طریقوں میں انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔









