
عالمی کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں نمایاں مندی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث بٹ کوائن کی قیمت چار ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ جون کے بعد پہلی بار بٹ کوائن کی قیمت ایک لاکھ ڈالر سے نیچے گر کر تقریباً 93 ہزار 699 ڈالر ریکارڈ کی گئی۔
گزشتہ ماہ بٹ کوائن 1 لاکھ 26 ہزار ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچا تھا، تاہم حالیہ دنوں میں اس کی قدر میں 20 فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی ہے۔
مارکیٹ کے مجموعی حجم میں بھی نمایاں کمی آئی ہے، جو اپنے سابقہ ریکارڈ 4.27 ٹریلین ڈالر سے کم ہو کر تقریباً 3.55 ٹریلین ڈالر تک آ گیا ہے۔
دیگر بڑی ڈیجیٹل کرنسیوں پر بھی اس مندی کا اثر دیکھا جا رہا ہے۔ ایتھیریم کی قیمت میں 10 فیصد اور ایکس آر پی میں 6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کرپٹو مارکیٹ کا مجموعی حجم 3.55 ٹریلین ڈالر کے سپورٹ لیول سے نیچے گیا تو ممکن ہے کہ مارکیٹ میں مزید گراوٹ دیکھنے کو ملے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن کے چارٹ میں صورتحال تشویشناک ہے، اور اگر قیمت موجودہ سپورٹ لیول سے نیچے گئی تو بٹ کوائن کی قدر مزید 10 سے 15 ہزار ڈالر تک کم ہو سکتی ہے۔ بعض ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس کی اگلی ممکنہ سطح 85 ہزار 700 ڈالر کے قریب ہو سکتی ہے۔
ادھر “آلٹ کوائنز” یعنی متبادل کرپٹو کرنسیوں میں بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد کمزور ہوتا جا رہا ہے، جس سے یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ مارکیٹ ایک نئے مندی کے دور میں داخل ہو سکتی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے ہفتے کرپٹو سرمایہ کاروں کے لیے نہایت اہم ہوں گے۔ اگر مارکیٹ نے موجودہ سپورٹ برقرار نہ رکھا تو بڑے پیمانے پر مزید نقصان ممکن ہے۔









