
دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن اکتوبر میں سات سال بعد پہلی بار نقصان میں رہی۔ اس ماہ بٹ کوائن کی قیمت تقریباً 5 فیصد کم ہوئی، اور یہ پہلا موقع ہے کہ اکتوبر، جسے عموماً بٹ کوائن کے لیے خوش قسمتی کا مہینہ سمجھا جاتا ہے، منفی رہا۔
ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی نے کرپٹو مارکیٹ کو متاثر کیا۔ ریسرچ تجزیہ کار ایڈم مک کارتی کے مطابق اکتوبر کے آغاز میں کرپٹو مارکیٹ سونے اور اسٹاکس کے ساتھ اوپر جا رہی تھی، مگر جیسے ہی غیر یقینی صورتحال بڑھی، سرمایہ کار بٹ کوائن سے دور ہو گئے۔
اکتوبر کے وسط میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چین سے درآمدات پر اضافی ٹیکس اور حساس سافٹ ویئر پر پابندی کے اعلان کے بعد بٹ کوائن کی قیمت میں شدید کمی آئی۔ 10 اور 11 اکتوبر کے درمیان قیمت 126,000 ڈالر سے گر کر 104,782 ڈالر تک پہنچ گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ سرمایہ کاروں کو یاد دلاتا ہے کہ کرپٹو مارکیٹ بہت محدود اور غیر مستحکم ہے، جہاں بڑے سکے بھی چند منٹوں میں 10 فیصد تک گر سکتے ہیں۔
اگرچہ اکتوبر میں کمی آئی، بٹ کوائن نے سال 2025 کے آغاز سے اب تک 16 فیصد منافع کمایا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کی کرپٹو کمپنیوں کے حوالے سے نرم پالیسیوں نے اس سال مارکیٹ کے لیے مثبت ماحول بنایا، مگر اکتوبر کا اتار چڑھاؤ ظاہر کرتا ہے کہ کرپٹو مارکیٹ اب بھی سیاسی اور معاشی فیصلوں سے متاثر ہے۔









