پاکستانی کسانوں کا ماحولیاتی نقصان پر جرمن کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان

0
88
پاکستانی کسانوں کا ماحولیاتی نقصان پر جرمن کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان

سندھ کے کسانوں نے 2022 کے تباہ کن سیلابوں کے بعد جرمنی کی دو بڑی کمپنیوں — توانائی کمپنی آر ڈبلیو ای اور سیمنٹ ساز ادارہ ہائیڈلبرگ کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں کی جانب سے پیدا کی جانے والی آلودگی نے موسمیاتی تبدیلیوں کو بڑھایا، جس کے نتیجے میں انہیں اپنی زمینوں اور روزگار سے محروم ہونا پڑا۔

کسانوں کی جانب سے دونوں کمپنیوں کو قانونی نوٹس بھی بھجوایا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر نقصان کا ازالہ نہ کیا گیا تو دسمبر میں مقدمہ دائر کیا جائے گا۔ کسانوں کا مؤقف ہے کہ وہ ماحولیاتی بحران کے ذمہ دار نہیں، لیکن سب سے زیادہ متاثر وہی ہوئے ہیں، اس لیے آلودگی پھیلانے والی کمپنیوں کو مالی نقصان کا ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔

کسانوں کے مطابق ان کی زمینیں اور فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں، اور انہیں 10 لاکھ یورو سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔

ادھر جرمن کمپنیوں نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ موصول ہونے والے قانونی نوٹس کا جائزہ لے رہی ہیں۔

عالمی رپورٹس کے مطابق، 2022 میں پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل تھا جو موسمیاتی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ اس سال ہونے والی شدید بارشوں نے ملک کے تقریباً ایک تہائی حصے کو متاثر کیا، 1,700 سے زائد اموات ہوئیں، 3 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے، جبکہ 30 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ریکارڈ کیا گیا۔ سندھ کا علاقہ اس آفت سے سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں کئی علاقے ایک سال تک پانی میں ڈوبے رہے۔

Leave a reply