
چاول صدیوں سے ہمارے کھانوں کا اہم حصہ رہے ہیں۔ چاہے دال چاول، بریانی یا پلاؤ ہو، تقریباً ہر گھر کے دسترخوان پر یہ موجود ہوتے ہیں۔ تاہم آج کل کارب فری ڈائٹس کے بڑھتے رجحان نے چاول کو ’غیر صحت بخش‘ غذاؤں میں شامل کر دیا ہے، اور کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ وزن بڑھاتے ہیں، جسم میں سوزش پیدا کرتے ہیں اور ہڈیوں کو کمزور کرتے ہیں۔
ماہرین کا موقف
ممبئی کے معروف آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر منن وورا نے حال ہی میں وضاحت کی کہ چاول جسم میں سوزش یا کمزوری پیدا نہیں کرتے۔ ڈاکٹر وورا کے مطابق، چاول کو مکمل طور پر چھوڑ دینا صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق، چاول:
گلوٹن فری ہیں اور ان میں سوڈیم، فیٹ اور کولیسٹرول کی مقدار کم ہوتی ہے۔
آئرن، وٹامن بی، میگنیشیم، زنک اور فولک ایسڈ جیسے اہم غذائی اجزاء فراہم کرتے ہیں، جو ہڈیوں، پٹھوں اور خون کے لیے ضروری ہیں۔
توانائی فراہم کرنے والے قدرتی کاربوہائیڈریٹس ہیں، جو جسم کی گلائیکوجن سطح برقرار رکھتے ہیں اور مسلز کو توانائی دیتے ہیں۔
ہڈیوں کی مضبوطی اور غذائی توازن
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہڈیوں کی مضبوطی صرف کیلشیم پر منحصر نہیں بلکہ پروٹین، وٹامن ڈی، میگنیشیم اور کاربز کے متوازن امتزاج پر بھی منحصر ہے۔ اگر چاول کو مکمل طور پر خوراک سے نکالا جائے تو مسلز جلد تھک سکتے ہیں اور ہڈیوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس سے بالواسطہ ہڈیوں کی کمزوری کا خطرہ بڑھتا ہے۔
صحت مند طریقے سے چاول کھانے کے اصول
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ چاول کو سمجھداری کے ساتھ اپنی خوراک میں شامل کیا جائے:
پروٹین (دال، مچھلی، چکن یا پنیر) کے ساتھ چاول کھائیں۔
سبزیاں وسلاد شامل کریں تاکہ فائبرکی کمی پوری ہو۔
براؤن رائس یا پالش نہ کیے ہوئے چاول بہتر انتخاب ہیں، کیونکہ ان میں فائبر اور منرلز زیادہ ہوتے ہیں۔
مقدار پر قابو رکھیں، ایک پیالی چاول کافی ہے۔
بین الاقوامی تجربات
جاپان، چین اور جنوبی کوریا میں لوگ روزانہ چاول کھاتے ہیں، مگر ان کی خوراک میں سبزیاں، مچھلی، سوپ اور فرمنٹڈ فوڈز بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہی توازن ان کی ہڈیوں اور جوڑوں کی مضبوطی کی وجہ ہے۔
نتیجہ
چاول خود نقصان دہ نہیں ہیں۔ مسئلہ خوراک کا توازن اور مجموعی غذائی عادات ہیں۔ مناسب مقدار میں پروٹین، سبزیاں اور فائبر کے ساتھ چاول کھانے سے توانائی ملتی ہے اور ہڈیوں، پٹھوں اور میٹابولزم کی صحت بھی برقرار رہتی ہے۔









