امریکہ میں سرکاری شٹ ڈاؤن کے باعث فضائی نظام درہم برہم، 8 ہزار سے زائد پروازیں تاخیر کا شکار

0
100
امریکہ میں سرکاری شٹ ڈاؤن کے باعث فضائی نظام درہم برہم، 8 ہزار سے زائد پروازیں تاخیر کا شکار

واشنگٹن: امریکہ میں وفاقی حکومت کے طویل شٹ ڈاؤن نے ملک کے فضائی نظام کو شدید متاثر کر دیا ہے، جہاں ائیر ٹریفک کنٹرولرز کی غیر حاضریوں کے باعث اتوار کے روز آٹھ ہزار سے زائد پروازوں میں تاخیر ریکارڈ کی گئی۔

امریکی محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کو ہفتے کے روز ملک کے 22 مراکز پر عملے کی کمی کا سامنا رہا، اور یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں پروازوں کی تاخیر اور منسوخیاں مزید بڑھ سکتی ہیں۔

فلائٹ مانیٹرنگ ویب سائٹ فلائٹ اویئر کے اعداد و شمار کے مطابق، اتوار کی رات 11 بجے تک 8,000 سے زائد امریکی پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں، جبکہ ایک روز قبل تقریباً 5,300 پروازیں متاثر ہوئی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق، اکتوبر کے آغاز میں شٹ ڈاؤن کے بعد سے پروازوں میں تاخیر معمول سے کئی گنا بڑھ گئی ہے۔

سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ایئر لائن ساؤتھ ویسٹ رہی، جس کی تقریباً 45 فیصد (یعنی 2,000 سے زائد) پروازیں متاثر ہوئیں۔ امریکن ایئر لائنز کی 1,200، یونائیٹڈ ایئر لائنز کی 739 اور ڈیلٹا ایئر لائنز کی 610 پروازیں بھی تاخیر کا شکار ہوئیں۔

ذرائع کے مطابق، ملک بھر میں تقریباً 13 ہزار ائیر ٹریفک کنٹرولرز اور 50 ہزار ٹرانسپورٹ سیکیورٹی ایجنسی اہلکار بغیر تنخواہ کے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، جس کے باعث کئی ملازمین متبادل روزگار کے مواقع تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔

امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹ شان ڈفی نے کہا ہے کہ ائیر ٹریفک کنٹرولرز کی کمی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے اور عملہ مسلسل دباؤ اور تھکن کا شکار ہے۔ ان کے مطابق، ہفتے کے روز 22 مراکز پر “اہم کمی” ریکارڈ کی گئی، جو اکتوبر کے آغاز کے بعد سے سب سے زیادہ ہے۔

اتوار کو شکاگو او’ہیئر، واشنگٹن ریگن نیشنل اور نیوارک لبرٹی انٹرنیشنل ہوائی اڈوں پر گراؤنڈ ڈیلے پروگرام نافذ کیے گئے، جبکہ لاس اینجلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر عارضی گراؤنڈ اسٹاپ بعد میں ہٹا لیا گیا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر عملے کو جلد تنخواہیں بحال نہ کی گئیں تو پروازوں کا شیڈول مزید متاثر ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، فی الحال FAA اپنے مطلوبہ عملے سے تقریباً 3,500 کنٹرولرز کم رکھتا ہے، اور شٹ ڈاؤن سے قبل بھی بیشتر اہلکار اوور ٹائم اور چھ دن کے ہفتے پر کام کر رہے تھے۔

یاد رہے کہ 2019 کے 35 روزہ شٹ ڈاؤن کے دوران بھی کنٹرولرز اور سیکیورٹی اسٹاف کی غیر حاضریوں میں اضافہ ہوا تھا، جس سے نیویارک اور واشنگٹن کے فضائی نظام میں نمایاں خلل پیدا ہوا تھا۔

دوسری جانب سیاسی محاذ پر دونوں جماعتیں اس بحران کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہی ہیں۔ ریپبلکنز کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹس “صاف فنڈنگ بل” کی مخالفت کر رہے ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس کے مطابق صدر ٹرمپ اور ان کی جماعت ہیلتھ کیئر سبسڈیز پر مذاکرات سے انکار کر کے بحران کو طول دے رہے ہیں۔

Leave a reply