بلوچستان میں ڈھائی ڈھائی سال کی حکومت سازی کا معاہدہ، پیپلز پارٹی کا انکار

0
109
بلوچستان میں ڈھائی ڈھائی سال کی حکومت سازی کا معاہدہ، پیپلز پارٹی کا انکار

بلوچستان میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ڈھائی ڈھائی سال کی حکومت سازی کے معاہدے کی افواہیں زور پکڑنے لگیں ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی مرکزی قیادت کی طرف سے بلوچستان میں حکومت کی مدت دو حصوں میں تقسیم کرنے کا معاہدہ بتایا گیا ہے، جس کے تحت ہر پارٹی کو ڈھائی سال حکومت کرنے کا موقع ملے گا۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی زرک خان مندوخیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بناتے وقت یہ معاہدہ تحریری شکل میں تھا اور جلد ہی ڈھائی سال کی مدت مکمل ہو جائے گی جس کے بعد صورتحال واضح ہو جائے گی۔

دوسری جانب، پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔ صوبائی وزیر آبپاشی میر صادق عمرانی کا کہنا تھا کہ حکومت سازی کے وقت ایسا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا اور پیپلز پارٹی بلوچستان میں اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر وفاق میں پیپلز پارٹی اپنی حمایت واپس لے تو مسلم لیگ (ن) کی حکومت ختم ہو جائے گی۔

پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی علی مدد جتک نے کہا کہ اگر واقعی ایسا معاہدہ ہوا ہے تو ڈھائی سال مکمل ہونے پر بلاول بھٹو وزیراعظم بنیں گے اور ہم بھی اپنی باری پر مسلم لیگ (ن) کو بلوچستان کی حکومت سونپ دیں گے۔

یہ سیاسی کشمکش بلوچستان کی حکومت کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر رہی ہے اور آنے والے دنوں میں صورتحال مزید واضح ہوگی۔

Leave a reply