مستقبل کی سواری: بغیر پائلٹ کے اڑنے والی ایئر ٹیکسی متعارف

0
110
مستقبل کی سواری: بغیر پائلٹ کے اڑنے والی ایئر ٹیکسی متعارف

نقل و حمل کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں اب شہروں کے اندر سفر کے لیے رکشہ یا ٹیکسی کی جگہ خودکار اڑنے والی گاڑیاں لینے کو تیار ہیں۔

چین کی ایک معروف کمپنی نے ایسی فلائنگ ٹیکسی متعارف کرائی ہے جو بغیر کسی پائلٹ کے اڑان بھر سکتی ہے۔ اس جدید سواری کا نام VT-35 رکھا گیا ہے، جو سنگل چارج پر 125 میل تک کا سفر طے کر سکتی ہے اور 134 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ دو نشستوں پر مشتمل فلائنگ وہیکل جدید خودکار پرواز کے نظام، الیکٹرک انجن اور محفوظ ائیر فریم سے لیس ہے، جو شہری علاقوں میں فضائی سفر کو نہ صرف ممکن بلکہ محفوظ بھی بناتا ہے۔

VT-35 ہیلی کاپٹر کی طرح عمودی طور پر ٹیک آف اور لینڈ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، یعنی اسے چھتوں، کھلے میدانوں، یا پارکنگ ایریاز میں آسانی سے اتارا جا سکتا ہے۔ حالیہ ٹیسٹ میں یہ گاڑی حرکت کرتے بحری جہاز پر بھی کامیابی سے لینڈ کر چکی ہے۔

کمپنی کے مطابق، یہ فلائنگ ٹیکسی 950 کلوگرام تک وزن لے جا سکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سواری کو اڑانے کے لیے کسی انسان کی ضرورت نہیں، تاہم زمین پر موجود ٹیم اس کے نظام کو مکمل طور پر کنٹرول کر سکتی ہے۔

اس جدید ٹیکنالوجی کی قیمت 9 لاکھ 13 ہزار 600 امریکی ڈالر رکھی گئی ہے، اور فی الحال اس کی آزمائش جاری ہے۔ کامیاب تجربات کے بعد اسے جلد ہی تجارتی بنیادوں پر فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔

یہ پیش رفت مستقبل کے شہری ٹرانسپورٹ سسٹم میں ایک نیا باب کھولنے جا رہی ہے، جہاں سڑکوں کی بھیڑ سے آزاد ہو کر لوگ فضا میں تیز اور محفوظ سفر کر سکیں گے۔

Leave a reply